بوسٹن ( ویب ڈیسک) امریکی جیوری نے ایک ایرانی نژاد امریکی انجینئر مہدی محمد صادقی کو ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حساس الیکٹرانک پرزے غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے کی سازش کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میساچوسٹس کے رہائشی صادقی نے ایک سوئس کمپنی کو بطور فرنٹ فرام استعمال کر کے جدید ترین سینسرز اور الیکٹرانک آلات ایران بھیجے۔ یہ آلات مبینہ طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کے فوجی ہارڈ ویئر اور نیویگیشن سسٹم تیار کرنے والی کمپنی کو فراہم کیے جانے تھے۔
عدالتی دستاویزات اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ملزم نے اپنی سابقہ آجر کمپنی ‘اینالاگ ڈیوائسز’ کو ایک سوئس فرم کے ساتھ کاروبار کرنے کا مشورہ دیا تھا، جو حقیقت میں ایران کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا ایک خفیہ ذریعہ تھی۔ اگرچہ استغاثہ نے ابتدائی طور پر ان پرزوں کا لنک اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے ایک ڈرون حملے سے جوڑا تھا، تاہم جج نے مقدمے کی کارروائی کو صرف غیر قانونی برآمدات تک محدود رکھنے کا حکم دیا۔ ملزم صادقی کو 13 اکتوبر 2026 کو سزا سنائی جائے گی، جہاں انہیں 20 سال تک قید کا سامنا ہو سکتا ہے

