نیو یارک / لندن (ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ امریکی اور برطانوی فضائی حملوں کے جواب میں ایرانی اقدامات نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 4 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 79.31 ڈالر اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 9.4 فیصد بڑھ کر 78.14 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اچھال نے عالمی معیشت میں مہنگائی کے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ سود 4.61 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فیڈرل ریزرو آنے والے مہینوں میں شرحِ سود میں کمی کے بجائے اسے طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس میکرو اکنامک دباؤ نے وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
دوسری جانب، توانائی کے بحران اور مہنگائی کی لہر کے باعث ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ نیسڈیک انڈیکس سمیت بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کار اب اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر ہونے والے کھربوں ڈالرز کے اخراجات پر سوالات اٹھا رہے ہیں، کیونکہ ان کے فوری اور منافع بخش نتائج سامنے نہیں آ رہے، جس کی وجہ سے ٹیک سیکٹر میں ایک بڑا مارکیٹ کریکشن دیکھنے کو مل رہا ہے۔

