ریاض ( الفجرآن لائن) یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ کر دیا ہے۔ اس حملے کے ساتھ ہی مارچ 2022 سے قائم چار سالہ عارضی جنگ بندی اور پرامن ماحول باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے تصدیق کی ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس نیٹ ورک) نے ملک کے جنوبی حصے کی طرف آنے والے تمام میزائلوں کو فضا میں ہی کامیابی سے تباہ کر دیا، جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت (جسے ریاض کی حمایت حاصل ہے) نے حوثی باغیوں کے زیرِ کنٹرول صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر شدید بمباری کی۔ اس فضائی حملے کا مقصد تہران سے آنے والے ایک ایرانی مسافر طیارے کو لینڈنگ سے روکنا تھا، جس میں حوثی وفد سوار تھا۔ رن وے تباہ ہونے کے بعد ایرانی طیارے کو رخ تبدیل کر کے حدیدہ کی بندرگاہ پر اترنا پڑا۔ یمنی وزارتِ دفاع نے اسے ملکی خود مختاری کا تحفظ قرار دیا، جبکہ حوثیوں نے اسے "سعودی جارحیت” کا نام دے کر فوری جوابی کارروائی کی۔
اس حملے کے بعد حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے تمام بین الاقوامی ایئر لائنز کو وارننگ جاری کی ہے کہ جب تک صنعا ایئرپورٹ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا، وہ سعودی فضائی حدود کا استعمال بند کر دیں۔ دوسری طرف یمن کی جنوبی حکومت نے ملک کے تمام ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہنس گرونڈبرگ نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ خطہ دوبارہ کسی بڑی اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں نہ آ جائے

