چین ( ویب ڈیسک)چپس کی شدید قلت کے باعث رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں سمارٹ فونز کی عالمی سپلائی میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارکیٹ ریسرچ کمپنی ‘کاؤنٹر پوائنٹ’ کی رپورٹ کے مطابق، یہ 2013 کے بعد کسی بھی دوسری سہ ماہی میں سمارٹ فونز کی فروخت کی گرتی ہوئی سب سے کم ترین سطح ہے۔ اس بحران کی بنیادی وجہ میموری چپس کی قیمتوں میں ہونے والا بے پناہ اضافہ ہے، جس نے موبائل کمپنیوں کو اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے چپس بنانے والی بڑی کمپنیاں اب سمارٹ فونز کے بجائے ڈیٹا سینٹرز کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس ترجیح کے باعث موبائل میموری چپس کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ چپس کی اس قلت اور بڑھتی ہوئی لاگت کا سب سے زیادہ اثر بجٹ اور مڈ رینج فونز بنانے والی کمپنیوں جیسے شاومی، اوپو اور ویوو پر پڑا ہے، جن کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
دوسری جانب، اس شدید بحران کے باوجود سام سنگ اور ایپل جیسی بڑی کمپنیاں مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔ سام سنگ نے اپنی فلیگ شپ ‘گلیکسی ایس 26 ‘ سیریز کی بدولت عالمی مارکیٹ میں 24 فیصد حصے کے ساتھ پہلا نمبر حاصل کر لیا ہے، جبکہ ایپل 20 فیصد حصے کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چپس کی یہ قلت 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں سستے فونز ناپید ہو جائیں گے اور مارکیٹ صرف مہنگے سمارٹ فونز تک محدود ہو کر رہ جائے گی

