ڈاکار (ویب ڈیسک) جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے اور یہ وباء اب ملک کے دو مزید صوبوں ‘تھوپو’ اور ‘اوتے-اوئیلے’ تک پھیل چکی ہے۔ پبلک ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، نئے صوبوں میں ہلاکتوں کی تصدیق کے بعد متاثرہ علاقوں کی کل تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ افریقہ کے صحت کے اداروں نے اس لہر کو تاریخ کی تیز ترین شرح سے پھیلنے والی وباء قرار دیا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق، یہ وباء ایبولا کے نایاب ‘بندی بوگیو’ اسٹرین کی وجہ سے پھیل رہی ہے، جس کی فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔ صوبہ اوتے-اوئیلے کی سرحدیں جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ سے ملتی ہیں، جس کی وجہ سے اب اس وائرس کے پڑوسی ممالک میں منتقل ہونے کا خطرہ بھی انتہائی بڑھ گیا ہے۔ دوسری طرف، بڑے شہر کسنگانی میں کیسز سامنے آنے سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کی ہے کہ سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ لوگ اس کا شکار ہو چکے ہیں، کیونکہ 80 فیصد نئے مریضوں کا پرانے مریضوں سے کوئی واضح رابطہ نہیں مل رہا۔ اس شدید بحران کے دوران، متاثرہ علاقوں کے ہسپتالوں میں طبی عملے نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتال کر دی ہے، جس سے امدادی سرگرمیاں اور وائرس کو روکنے کی کوششیں شدید متاثر ہو رہی ہیں

