تہران / واشنگٹن (الفجر آن لائن): امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی افواج نے مسلسل چھٹی رات بھی ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے اس کے جواب میں خطے میں امریکی اتحادیوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی حملوں میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع اہم فوجی تنصیبات، میزائل مراکز اور ساحلی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات کیے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور امریکی اتحادی ممالک کی بعض تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے لیے "سرخ لکیر” ہے اور اس معاملے پر کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی بھی متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل کے خدشات کے سبب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے بھی اپنی سرگرمیوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔
دریں اثنا، اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے سفارتی حل کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے، تاہم میدانِ عمل میں فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی سپلائی اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں
دوسری جانب سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی، تاہم مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔ ایران نے بھی اشارہ دیا ہے کہ مناسب حالات میں سفارتی بات چیت ممکن ہے، تاہم موجودہ حالات میں اس کی ترجیح اپنی سلامتی اور دفاع ہے۔
پاکستان سمیت کئی علاقائی ممالک نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کریں تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام اور انسانی بحران سے بچا جا سکے۔

