کوئٹہ (الفجرآن لائن) کوئٹہ کے علاقے کوئلہ پھاٹک پر آل پارٹیز اور زیارت پولیس شہداء کے لواحقین کا منظم دھرنا رنگ لے آیا۔ دھرنا کمیٹی کے سخت اور دو ٹوک موقف کے باعث حکومت اور اسٹیبلشمنٹ شدید دباؤ میں آ گئی ہے، جس کے بعد حکومت نے مظاہرین کے اکثر مطالبات تسلیم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین، آل پارٹیز اور حکومتی وفد کے درمیان عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی رہائش گاہ پر طویل اور اہم مذاکرات ہوئے۔ اس موقع پر مظاہرین نے اپنے مطالبات کی فہرست حکومتی وفد کے سامنے رکھتے ہوئے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ جب تک مطالبات منظور نہیں ہوتے، دھرنا نہ صرف جاری رہے گا بلکہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔
مذاکرات کے بعد حکومتی وفد مطالبات کی حتمی فہرست لے کر فوری طور پر وزیر اعلیٰ ہاؤس روانہ ہوا، جہاں وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور مقتدر حکام ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے مظاہرین کے اکثریتی مطالبات تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ دو پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے آل پارٹیز سے کچھ وقت مانگا جائے گا۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رات گئے تک مذاکرات کے حوالے سے انتہائی مثبت اور حتمی پیش رفت سامنے آ جائے گی۔

