سرفراز بگٹی صاحب آپ اور نواب اکبر بگٹی صاحب جب تکلیف میں تھے تب بھی ہم نے ساتھ دیا تھا،ظالم اور مظلوم کی جنگ میں ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دینگے، بلوچ ماما اس صوبے میں پشتونوں کے حقوق کو ماننا ہوگا،اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کا احتجاجی دھرنے سے خطاب
کوئٹہ (الفجر آن لائن) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وپشتونخوامیپ کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سانحہ زیارت کے خلاف کوئلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنے سے دوسری مرتبہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے دفاع قوم کی خودمختاری،عزت وآبرو،تعلیم وترقی کے لیے متحد ہونا ہوگا،5سال پہلے کہا تھا کہا آئیں متحدہوجائیں،اکابرین پر حملے ہورہے ہیں، مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی خان، آفتاب شیرپاؤ ان سب پر حملے ہوئے
ان سب کا کیا قصور تھا؟ زمانوں سے ہماری لہو کو بہایا جارہا ہے اور آج کہتے ہیں پشتون دہشت گرد ہیں،سرفراز بابو آپ کی ساری حکومت ان لوگوں کی قاقتل ہیں،حکومتی مذاکراتی ٹیم اگر جوڈیشل کمیشن کو مان لیں اس کے لیے ضروری ہے کہ چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر کو پہلے اپنے عہدوں سے ہٹانا ہوگا پھر تحقیقات ہوں گی، DC، سیکرٹری داخلہ، کمشنر، چیف سیکرٹری یا کوئی بھی یہ ہمارے قاتل ہیں، پشتون افغان وطن اپنے بڑے طاقتور ہمسایوں کے درمیان واقع ہے، ہم پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے پاکستان ہمارا ملک ہے،پشتون قوم یہ اہلیت اور صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ اپنے وطن کا دفاع کرسکیں، تمام پشتونوں کا جرگہ بلانا ہوگا۔
پشتونوں کا ایک جرگہ یہاں اور اسی دوران میں ایک جرگہ چترال سے لیکر ہزارہ،کشمیر، وزیرستان،سوات اور یہاں کے پشتونوں کا ایک بڑا مشترکہ جرگہ جو کہ دو تین دن جاری ہو جس میں سب مل بیٹھ کر ایک فیصلہ کریں اور پاکستان سے یہ کہہ دیں اگر برابری کی بنیاد پر بات کرنی ہے تو یہ گارنٹی دینی ہوگی کہ پشتون اس ملک میں برابر سیال ہوگا۔
سوات، وزیرستان لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا گیا، ان گھروں، مارکیٹوں کو مسمار کرکے کرکٹ کے میدان بنائے گئے، دنیا کا کوئی بھی ملک اگر معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو یہاں کے عوام سے کرنا ہوگا،جس سرزمین میں جو بھی معدنیات دریافت ہو وہاں کے رہنے والے بچوں اور اس زمین کے مالکوں کے ساتھ بات کریں۔ دنیا کے قوانین کی طرح ان کو جو حصہ بنتا ہے وہ انہیں دیں باقی آپ بے شک نکالیں۔

