اسلام آباد(الفجرآن لائن) سول سروسز اکیڈمی لاہور کے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام سے تعلق رکھنے والے 217 پروبیشنری افسران پر مشتمل وفد نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہیں ادارے کے وژن، مینڈیٹ، انتظامی نظام اور سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر عصمت نواز نے وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کے ارتقائی سفر، خواتین کی خودمختاری اور مالی شمولیت کے فروغ میں ادارے کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق قائم کیا گیا اور اس کی بنیاد صدر آصف علی زرداری نے رکھی۔
چیئرپرسن نے کہا کہ بی آئی ایس پی کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ گھرانے کی خاتون کو مستحق قرار دے کر براہِ راست امداد کی حق دار بنایا گیا، جس سے خواتین کو سماجی تحفظ کے نظام میں براہِ راست شامل کیا گیا۔ ان کے مطابق قومی شناختی کارڈ کو رجسٹریشن کے لیے لازمی قرار دینے سے لاکھوں خواتین قومی ڈیٹا بیس میں شامل ہوئیں اور بطور شہری ان کی شناخت مزید مضبوط ہوئی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی صرف مالی معاونت تک محدود نہیں بلکہ لائف سائیکل اپروچ کے تحت کمزور اور مستحق خاندانوں کو تعلیم، غذائیت، مالی شمولیت اور روزگار کے مواقع سمیت مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ بی آئی ایس پی سے متعلق غلط تاثر کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری نہیں بناتا بلکہ انہیں بھکاری بننے سے بچاتا ہے اور باعزت زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔”
انہوں نے مستحقین کو شفاف، باعزت اور آسان ادائیگیوں کی فراہمی کے لیے جاری اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل والٹس کے اجرا کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ خواتین مستحقین کو زیادہ محفوظ، شفاف اور آسان ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
چیئرپرسن نے مزید بتایا کہ بی آئی ایس پی انٹرآپریبلٹی متعارف کرانے کی جانب بھی بڑھ رہا ہے، جس کے تحت مستحقین اپنے وظائف کسی بھی مقام پر اور کسی بھی وقت پارٹنر بینکوں کے متعلقہ ایجنٹس کے ذریعے وصول کر سکیں گے۔ انہوں نے بینظیر ہنرمند پروگرام کو بھی مستحق خاندانوں کے لیے ہنر اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اہم کوشش قرار دیا۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری سماجی تحفظ کی منصوبہ بندی کے لیے ایک قومی اثاثہ بن چکا ہے، جسے صوبائی سطح پر مختلف ادارے بھی سماجی تحفظ سے متعلق اقدامات کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل این ایس ای آر/سی سی ٹی ڈاکٹر عاصم اعجاز نے وفد کو بینظیر کفالت، بینظیر تعلیمی وظائف، بینظیر نشوونما اور این ایس ای آر سمیت بی آئی ایس پی کے اہم پروگراموں پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ آغا خان یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بینظیر نشوونما پروگرام کے نتیجے میں بچوں میں کی شرح میں 6.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دورے کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا، جس میں پروبیشنری افسران نے بی آئی ایس پی کے ادارہ جاتی ڈھانچے، مستحقین کے انتخاب، ادائیگیوں کے نظام، ڈیجیٹل تبدیلی اور مستقبل کی پالیسی سمت سے متعلق سوالات کیے۔ دورے کے اختتام پر سول سروسز اکیڈمی کی جانب سے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل ظہور نے چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور پروگرام کی کارکردگی کو سراہا۔

