لاہور(الفجرآن لائن)سینیٹر فار ایئرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس) لاہور نے “طاقت کی نئے سرے سے تعریف: اسٹریٹیجک مسابقت کے دور میں جیواکنامکس، ٹیکنالوجی اور سلامتی” کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ایک آزاد تھنک ٹینک کی حیثیت سے کَیس لاہور قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں دلچسپی رکھنے والے اسکالرز اور ماہرین کے لیے علمی نشستیں منعقد کرتا رہتا ہے۔
اس تقریب میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور شعبہ جاتی ماہرین نے شرکت کی۔ کَیس لاہور کی ریسرچ اسسٹنٹ محترمہ سبرا وسیم نے افتتاحی خطاب کیا۔چیئرمین پاکستان ریجنل اکنامک فورم اسلام آباد، جناب ہارون شریف نے کہا کہ پاکستان کو اپنی جیوپولیٹیکل اہمیت بڑھانے کے لیے اسٹریٹیجک شراکت داریوں اور سی پیک کو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی ایکو سسٹم میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اسٹریٹیجک محلِ وقوع سے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں تنوع لانے اور درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جو کہ ملک کی ۸۵ فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔ انہوں نے سالانہ لیبر مارکیٹ میں نئے داخل ہونے والے چالیس لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ مزید برآں انہوں نے تجویز دی کہ ایسے شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے جہاں ویلیو ایڈیشن، پیداواریت اور برآمدات کی صلاحیت موجود ہو، ساتھ ہی علمی و تکنیکی شراکت داری، تحقیق و ترقی اور نجی شعبے کی زیادہ شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوشل پروٹیکشن ریسورس سینٹر اسلام آباد، ڈاکٹر صفدر سہیل نے پاکستان کے جغرافیائی سیاسی تعلقات کو معاشی تبدیلی سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا.
اس ضمن میں انہوں نے خاص طور پر امریکہ اور سی پیک کے ذریعے حاصل ہونے والے اسٹریٹیجک مواقع کو مینوفیکچرنگ صلاحیت، ٹیکنالوجی شراکت داری اور برآمداتی مسابقت میں تبدیل کرنے کا ذکر کیا۔ پاکستان کی محدود برآمداتی بنیاد کے پیشِ نظر انہوں نے ترقیاتی فنانس اور صنعتی پالیسی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے کردار کو نمایاں کیا، ساتھ ہی ایک خودکفیل معیشت کی تعمیر کے لیے بہتر اعداد و شمار، معیارات اور مالیات، مینوفیکچرنگ اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کے انضمام پر بھی زور دیا۔ اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے شدید مالی مشکلات کے باوجود مئی ۲۰۲۵ کی جنگ میں پاک فضائیہ کی فیصلہ کن فتح کو بھی سراہا۔اپنے اختتامی کلمات میں صدر کَیس لاہور، ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے کہا کہ عسکری قوت بدستور ناگزیر ہے، لیکن معیشت، ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی اب باہم مربوط ہوتے جا رہے ہیں، جہاں ایک شعبے میں خلل دوسرے شعبوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع، رابطہ کاری اور بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے پیشِ نظر یہ تبدیلی خاص طور پر اہم ہے، جنہیں پائیدار معاشی فوائد میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ مزید برآں انہوں نے ایک ایسی ترقیاتی حکمتِ عملی پر زور دیا جو مضبوط شعبوں کی حمایت کرے اور ساتھ ہی ترقی کے لیے یکساں مواقع بھی یقینی بنائے۔ انسانی وسائل کی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے اس وژن کا حوالہ دیا جس کے تحت بہترین دستیاب افرادی قوت کو بروئے کار لا کر اور پاک فضائیہ کے وسائل کو دانشمندی سے استعمال کرتے ہوئے پاک فضائیہ کو مضبوط بنایا گیا، جس نے معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔تقریب کا اختتام ایک زندہ دل اور فکر انگیز سوال و جواب کی نشست پر ہوا، جس میں اقتصادی جغرافیہ، جی ڈی پی نمو کے ماڈل، اور معاون پالیسیوں کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ شرکاء نے کَیس لاہور کی جانب سے اس دلچسپ اور فکر انگیز مباحثے کے انعقاد کو سراہا۔

