اسلام آباد(الفجرآن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو رات کے اندھیرے میں ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر نے حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات اور بہتر سیاسی ماحول کی بات ہوتی ہے تو دوسری جانب ایسے اقدامات سے حالات خراب کیے جا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اچھی ڈائیلاگ کی فضا بنتی ہے، پتہ نہیں کون سی قوتیں اسے سبوتاڑ کردیتی ہیں۔
رات کو معلوم ہوا کہ بانی پی ٹی آئی کو رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا، ایک اچھی فضا کو لوگ خراب کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی بہن کو ہسپتال کے ایک دوسرے کمرے میں بند کیا گیا۔
پرسوں بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ تحریک انصاف کے لوگوں کو بھی بولنے دیا جائے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ ریاستیں عوام سے بنتی ہیں، ہم نے صرف اتنا کہا کہ اگر کوئی مجرم بھی ہے تو اس کا حق ہے کہ وہ اپنے خاندان سے مل سکے۔
اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ گوہر صاحب کو بات کر لینے دیں، جس کے بعد اسپیکر نے مائیک بیرسٹر گوہر کو دے دیا۔
بیرسٹر گوہر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مانے یا نہ مانے لیکن دنیا مانتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی مقبول ترین لیڈر ہیں۔
دنیا یہ بھی مانتی ہے کہ بعض لوگوں کو ان کی ایک جھلک بھی برداشت نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ جنوری میں پہلے حکومت کی جانب سے بیان دیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفٹ کیا گیا ہے اور ان کی آنکھ کا مسئلہ ہے۔
ہم اس معاملے پر 25 مرتبہ ہائی کورٹ اور 17 مرتبہ سپریم کورٹ گئے، لیکن اتنی بار عدالتوں سے رجوع کرنے کے باوجود ہمیں انصاف نہیں ملا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے اپنے لوگوں سے کہا تھا کہ وہاں کوئی ویڈیو نہ بنائے، اپنے سپورٹرز اور ووٹرز سے بھی کہا کہ کوئی شفا انٹرنیشنل نہ جائے۔
ہم نے سپریم کورٹ کے حکم کا احترام کرنے اور ایسا کوئی کام نہ کرنے کی ہدایت کی جس سے بانی پی ٹی آئی کا علاج متاثر ہو۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون ہے جس نے بانی پی ٹی آئی کو رات کو غلط ہسپتال لے کر گیا اور ایک گھنٹے کے اندر کون انہیں واپس لے گیا؟
انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا ہے جو ہمارے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ پارلیمنٹ میں رہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ ہم آپ کے ساتھ اسمبلی میں رہیں، میرا حق نہیں بنتا کہ میں مزید آپ کے ساتھ اس ایوان میں بیٹھوں، میں اپنے ووٹر کا سامنا نہیں کرسکتا۔
انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف سینئر سیاستدان ہیں، اب ہم متحدہ اپوزیشن ہیں، اگر خواجہ صاحب کا لیڈر ایسا ہو تو وہ کیا کریں گے؟
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ڈیل کرنے والے بندے نہیں ہیں، ہمارے کارکنوں کے لیے آج کا دن بھاری ہے

