اسلام آباد(الفجرآن لائن)افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں مسلح مزاحمتی سرگرمیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بغلان، کندوز، بدخشان، ہلمند اور قندھار میں ہونے والی کارروائیوں نے طالبان کے سکیورٹی ڈھانچے کو درپیش چیلنجز کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
افغان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف)، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) اور افغان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) سے منسوب حملوں میں طالبان کی سکیورٹی چوکیوں، فوجی مراکز، پوزیشنوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کارروائیوں میں طالبان کے اہلکاروں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے اور فوجی گاڑیوں کی تباہی کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
بغلان اور کندوز سے بدخشان، ہلمند اور قندھار تک مزاحمتی کارروائیوں کا پھیلاؤ طالبان کے مکمل اور مستحکم کنٹرول کے دعوے پر سوالات اٹھاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف)، این آر ایف اور اے یو ایف نے بغلان، کندوز، بدخشان، ہلمند اور قندھار میں ٹارگٹڈ حملے اور براہ راست جھڑپیں کیں۔
جن میں طالبان کے فوجی مراکز، سکیورٹی چوکیوں، پوزیشنوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔16 اگست کو این آر ایف نے بغلان کے ضلع فیرنگ میں طالبان کو نشانہ بنایا۔
جس میں 1 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ 15 اگست کو کندوز میں طالبان کے ساتویں پولیس زون پر حملے میں 3 طالبان اہلکار ہلاک اور ایک فوجی گاڑی تباہ ہوئی۔ 16 اگست کو اے ایف ایف نے بدخشان کے زیبک میں طالبان پوزیشنوں پر حملہ کیا۔
جس میں 6 طالبان ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔ افغان فریڈم فرنٹ کے مطابق طالبان کو کئی مقامات سے پسپائی اختیار کرنا پڑی اور بعض پوزیشنیں اور مورچے فرنٹ کے قبضے میں آگئے۔20 اگست کو زیبک میں دوبارہ حملہ ہوا۔
جہاں 3 گھنٹے 30 منٹ تک جاری رہنے والی جھڑپ میں 6 طالبان ہلاک اور کم از کم 10 زخمی ہوئے
جبکہ طالبان کی جانب سے مورچے واپس لینے کی متعدد کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔19 اگست کو فیض آباد میں طالبان گورنر دفتر اور سکیورٹی چوکی پر افغان فریڈم فرنٹ کے راکٹ حملے کے بعد تقریباً 30 منٹ جھڑپ جاری رہی۔
جس میں 4 طالبان ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ 18 اگست کو اے یو ایف نے لشکرگاہ میں کارروائی کرتے ہوئے 4 طالبان ہلاک اور ایک رینجر گاڑی تباہ کی۔
جبکہ 19 اگست کو قندھار میں طالبان کے 205 کور کے فوجی مرکز کے داخلی راستے پر حملے میں 5 طالبان ہلاک، 3 زخمی اور ایک فوجی گاڑی تباہ ہوئی۔
ایک ہفتے میں کم از کم 29 طالبان اہلکار ہلاک، 28 زخمی اور 3 گاڑیاں تباہ ہوئیں

