کوئٹہ (الفجرآن لائن) گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے ملک بھر میں ٹیکنالوجی کے انقلاب کے لیے ایک بڑے ہدف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں قومی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے شعبے میں دس لاکھ ماہرین تیار کرنے ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس عظیم اور جدید خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے تمام پبلک سیکٹر کی جامعات کے وائس چانسلرز کو اپنا کلیدی اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے سولہویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
گورنر بلوچستان نے سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی رینکنگ اور اسکورنگ میں مسلسل اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور ان کی پوری ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وویمن یونیورسٹی کو پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹیز کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے تمام امور و معاملات میں میرٹ کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور طالبات کو جدید تقاضوں کے مطابق ماڈرن اسکلز سکھائی جائیں تاکہ وہ ملکی ترقی میں بامعنی شراکت کے قابل بن سکیں۔
اس اہم اجلاس کے دوران یونیورسٹی ملازمین کے لیے ایک بڑی خوشخبری بھی سامنے آئی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے تحت سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے خضدار، پشین اور نوشکی کیمپسز کے ان تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل (ریگولرائز) کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جنہوں نے بھرتی کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے تھے اور وہ تاحال اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ریگولرائزیشن کے اس عمل سے قبل ملازمین کے دستاویزات اور کوائف کی مکمل تصدیق کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اجلاس میں کئی اہم فیصلے اور سفارشات منظور کی گئیں جن میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عامر رانا، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، اور رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ نے بھی شرکت کی۔ ان کے علاوہ صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، ایچ ای سی کی سینیئر عہدیدار ڈاکٹر نور آمنہ ملک، قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی اور پرنسپل سیکرٹری عبدالناصر دوتانی سمیت سینیٹ کے دیگر معزز ممبران بھی موجود تھے

