تربت(الفجرآن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی نے ایک بار پھر کیچ کے عوام کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی مگر غیور عوام نے ان کی سیاست کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب صرف کھوکلے نعروں، احتجاجی کالز اور سیاسی ڈراموں سے عوام کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیچ میں نیشنل پارٹی کا حالیہ احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب قوم پرست جماعتوں کی منافقانہ سیاست سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کے معاملے پر حکومت بخوبی آگاہ ہے۔ آئی جی ایف سی کی جانب سے پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے کہ جالگی بارڈر کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم ایرانی حکام کے بعض تحفظات موجود ہیں جنہیں دونوں جانب کے حکام باہمی رابطے اور مذاکرات کے ذریعے جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، جیرک بارڈر کے لیے ہر ہفتے کیچ کی نوبت لسٹیں جاری کی جا رہی ہیں اور عملی پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔
مینا مجید بلوچ نے نیشنل پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے انتظامیہ کو بلیک میل کرنے اور 20 ستمبر کو عوامی طاقت دکھا کر سستا سیاسی کریڈٹ لینے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ اور بارڈر سے منسلک افراد نیشنل پارٹی کے پرانے وطیرے سے واقف ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی نعروں کے بجائے عملی ڈیولپمنٹ کو دیکھیں اور ڈاکٹر مالک بلوچ کا ماضی کا بی بی سی انٹرویو سن کر خود فیصلہ کریں کہ اقتدار میں رہ کر ان کی بارڈر پالیسی کیا تھی

