کوئٹہ (الفجر آن لائن): بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور کالعدم تنظیموں کی مبینہ سرگرمیوں کے حوالے سے کوئٹہ میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں دہشت گرد نیٹ ورکس اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کیے جانے کے دعوے سے متعلق دو خواتین نے میڈیا کے سامنے اپنے بیانات پیش کیے۔
پریس کانفرنس میں تربت سے تعلق رکھنے والی اور بی ایس سی کی تعلیم مکمل کرنے والی خدیجہ عبدالخالق نے بتایا کہ ان کے شوہر کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا اور ان کا 2022 میں انتقال ہو گیا۔
خدیجہ کے مطابق ان کے بھائی اور اس کے ایک دوست نے انہیں پاکستان کے خلاف ورغلایا، جس کے بعد ایک منصوبے کے تحت نوکنڈی میں دھماکے کی کارروائی میں انہیں استعمال کیا گیا۔
خدیجہ عبدالخالق نے اپنے مبینہ کردار پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی اور کہا کہ اب ان کا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ تنظیمیں اپنے مقاصد کے لیے لوگوں کو استعمال کرتی ہیں تو اپنے ہی بچوں کو اس مقصد کے لیے کیوں استعمال نہیں کرتیں؟
پریس کانفرنس میں بسیمہ سے تعلق رکھنے والی صفیہ پیر محمد نے بھی اپنے بیان میں بتایا کہ ان کی ایک سہیلی نے انہیں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے ایک کمانڈر سے متعارف کرایا،
جس کے بعد ان کے روابط مزید چار سے پانچ کمانڈروں تک پہنچ گئے۔
صفیہ پیر محمد کے مطابق کالعدم تنظیم کے کمانڈروں نے انہیں خودکش حملے کے لیے گاڑی چلانے کا ٹاسک اور ہدایات دیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے بعد ان کا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس راستے سے علیحدگی کا اعلان کرتی ہیں۔صفیہ نے سوال اٹھایا کہ آخر غریب گھرانوں کے بیٹوں اور بیٹیوں کو ہی دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے کیوں استعمال کیا جاتا ہے۔
پریس کانفرنس میں دونوں خواتین نے اپنے سابقہ روابط اور مبینہ کردار سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے پشیمانی کا اعلان کیا۔

