کوئٹہ (الفجرآن لائن) دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے غریب اور معصوم
بیٹیوں کو خودکش بمبار بنانے کی مذموم سازشیں بے نقاب ہو گئی ہیں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان کے چنگل سے بازیاب ہونے والی خواتین نے کوئٹہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشتگردوں کے بھیانک عزائم اور کارروائیوں کی قلعی کھول دی۔
پریس کانفرنس کے دوران بازیاب ہونے والی خاتون صفیہ عبدالخالق نے ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ دہشتگردوں نے انہیں رابطے کے لیے خصوصی موبائل فون فراہم کیا اور باقاعدہ خودکش بمبار بننے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے انہیں ایک میلے کے بہانے بلایا گیا، پھر مختلف کمانڈرز سے ان کے رابطے کرائے گئے۔
دہشتگردوں نے انہیں ڈرائیونگ سکھانے، بم بنانے کی تربیت دینے اور گاڑی میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کے احکامات دیے تھے۔ایک اور بازیاب خاتون خدیجہ پیر جان نے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ انہیں کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا، ان کے شوہر 2022 میں ہلاک ہوئے تھے جن کا تعلق ایک دہشتگرد تنظیم سے تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ہمیشہ غریب گھرانوں کی لڑکیوں کو ہی کیوں ان گھناؤنے مقاصد اور خودکش حملوں کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے؟ انہوں نے اپیل کی کہ جو عناصر یہ ہلاکت خیز کھیل کھیل رہے ہیں، ان کے اپنے بھی بچے ہیں، لہٰذا کوئی بھی لڑکی کسی کی چکمہ بازی میں آ کر اس غلط راستے کا انتخاب نہ کرے۔
صفیہ عبدالخالق نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ فورسز نے بروقت کارروائی کر کے انہیں زندہ سلامت بازیاب کرایا اور انتہائی باعزت طریقے سے ان کے خاندان کے حوالے کیا۔
انہوں نے والدین اور نوجوان نسل سے پرزور اپیل کی کہ وہ گمراہ کن باتوں پر ہرگز دھیان نہ دیں، کسی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے اپنے خاندان اور روشن مستقبل کے بارے میں سوچیں، اور دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کا حصہ بننے سے گریز کریں

