کوہاٹ (الفجرآن لا ئن) وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مسلح جتھے کو اسلام آ باد پر یلغار کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے، پی ٹی آئی بتائے انکا پرامن احتجاج کب اور کونسا رہا۔
خیبر پختونخوا حکومت صوبے کے عوام کو اپنے ساڑھے بارہ سالہ دور اقتدار کی کارکردگی پر جواب دے۔ دہشتگردی کے نا سور کو جڑ سے ختم کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
کوہاٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آج یہاں کی فضا سوگوار ہے۔ دھرتی کے بہادر جوانوں نے جان کا نذرانہ پیش کرکے ملک کے بچوں کو یتیم ہونے سے بچایا۔
سی ایم ایچ میں زیر علاج زخمی جوان کا جذبہ دیدنی تھا۔ شہدا کے لواحقین کے صبر اور جذبہ بھی لائق تحسین ہے۔ شہید فہیم کے والد کا کہنا تھا کہ انکو اپنے بیٹے پر فخر ہے کہ اس نے دھرتی کے لئے لہو کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پیغام دیا ہے کہ ہم سب مل کر دہشتگردی کئے نا سور کا خاتمہ کریں گے۔ اور دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاک فوج جو دہشتگردی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے یہ کوششیں ضرور لائیں گی اور اس لعنت کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔
انہوں نے خیبر پختونخواہ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوے کہا کوہاٹ میں دہشتگردی کا ا افسوسناک سانحہ پیش آیا تو وزیر اعلی کے پی کے ہیلی کاپٹر پر پندرہ منٹ کا چکر لگا کر چلے گئے۔
انھیں اس وقت شہدا کے لواحقین کے پاس موجود ہونا چا ہیے تھا انھیں گلے لگانا چا ہیے تھا۔ یہ بتائیں لاینڈ آرڈر کا فنڈ جو کے پی کے کو ملتاہے وہ کہاں جاتا ہے یہاں پولیس کو فرانزک لیب تک کی سہولت موجود نہیں۔
کروڑوں روپے یہ ہڑپ کر جاتے ہیں اور صوبے کی فلاح کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنید اکبر نے اسلام آباد کو جو سومنات بنانے کا بیان دیا اس پر معافی مانگیں، اللہ سے ڈریں ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوششیں ترک کریں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی صوبے پر ساڑھے بارہ سا لہ حکومت کے دور میں کئے جانے والے کاموں کا عوام کو جواب دے۔ انہوں نے کتنے سکول، ہسپتا ل، سڑکیں بنائیں۔
یہ صرف سوشل میڈیا ک پر پوسٹیں اچھی لگا سکتے ہیں۔ ان سے کہتے ہیں ہم تعمیر وترقی کرتے رئیں گے آپ تباہی کے راستے پر گامزن رئیں۔ ان کے پاس فنڈز بھی موجود ہیں وسائل بھی موجود ہیں بس کمی انکی نیت کی ہے۔
انکو مینڈیٹ ملا ہے کہ بس تمام تر دھیان اپنے لیڈر کو آزاد کرانے پر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ انکو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے لیڈر کی رہائی کیلئے قانونی طریقہ ہے اس کے لئے عدالتوں میں جائیں سڑکوں پر نہیں دھرنوں سے کوئی رہا نہیں ہوتا۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کسی کو اسلام آبا د کی طرف نہیں آنے دیں گے۔ یلغار کی کوشش کی تو نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ دھرنوں کے بجائے اپنے صوبے کے عوام کی خدمت کریں نہیں تو ایک وقت آئے گا کے پی کے لوگ اپ کا گریبان پکڑیں

