150 بستروں پر مشتمل بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کا افتتاح نومبر میں متوقع، معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر جلال خان عبوری سربراہ مقرر، صوبے بھر میں سیٹلائٹ مراکز اور چیسٹ پین مینجمنٹ سینٹرز کے قیام کا بھی فیصلہ
کوئٹہ (الفجر آن لائن) بلوچستان میں امراضِ قلب کے علاج کے لیے پہلے جدید اور اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال کی تعمیر و تکمیل آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ 150 بستروں پر مشتمل بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز (BICVD) کا افتتاح رواں ماہ متوقع ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر جلال خان کو ادارے کا عبوری سربراہ بھی تعینات کردیا گیا ہے۔ اسپتال کے قیام سے بلوچستان کے مریضوں کو دل کے امراض کی تشخیص، علاج اور ہنگامی طبی سہولیات صوبے ہی میں میسر آنے کی توقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپتال کی تکمیل، طبی سہولیات کی فراہمی، انتظامی امور اور ادارے کو فعال بنانے سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں مرکزی اسپتال سے منسلک تین سیٹلائٹ مراکز بھی فعال کیے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں ان مراکز کا دائرہ کار بڑھا کر تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک پھیلایا جائے گا۔
اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں چیسٹ پین مینجمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں گے، تاکہ سینے میں درد اور دل کے دورے کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں مریضوں کو فوری ابتدائی طبی سہولیات اور بروقت تشخیص کی سہولت فراہم کی جاسکے۔ اس اقدام کا مقصد دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو بھی دل کے امراض کے علاج کی سہولیات تک بہتر رسائی دینا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کا قیام صوبے کے شعبہ صحت میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے بلوچستان کے مریضوں کو دل کے امراض کے علاج کے لیے دیگر صوبوں کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں جدید طبی اداروں کے قیام اور عوام کو معیاری علاج کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اسپتال کو جدید طبی آلات، مستند ماہرین اور مؤثر انتظامی نظام کے ذریعے فعال بنایا جائے، تاکہ امراضِ قلب میں مبتلا مریضوں کو بروقت تشخیص، معیاری علاج اور ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور علاج معالجے کے لیے درپیش مشکلات کا خاتمہ ہے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ طبی سہولیات کی فراہمی میں صرف کوئٹہ ہی نہیں بلکہ صوبے کے دور دراز اضلاع کو بھی یکساں اہمیت دی جائے گی۔ مجوزہ سیٹلائٹ مراکز اور چیسٹ پین مینجمنٹ سینٹرز کے قیام سے دل کے مریضوں کو ابتدائی طبی امداد اور بروقت تشخیص کی سہولت مقامی سطح پر فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

