اصغر خان اچکزئی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لیے بیانات دے رہے ہیں، اے این پی خود صوبائی حکومت کی اتحادی جماعت ہے، آل پارٹیز کانفرنس کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے قومی یکجہتی کے لیے استعمال کیا جائے، معاون برائے داخلہ بلوچستان
کوئٹہ (الفجر آن لائن) معاون برائے داخلہ حکومت بلوچستان بابر یوسفزئی نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اصغر خان اچکزئی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی مردہ سیاسی ساکھ کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اس نوعیت کے بیانات دے رہے ہیں۔ انہیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ عوامی نیشنل پارٹی خود صوبائی حکومت کی اتحادی جماعت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ الحمدللہ بلوچستان کے ایک ایک انچ پر صوبائی حکومت کی رٹ برقرار ہے اور حکومت امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
بابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ صوبے میں بہادر سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کے لیے دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ ان اداروں کے اہلکار صوبے میں امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، جن کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شرپسند یا دہشت گرد عنصر کو بلوچستان کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
معاون برائے داخلہ بلوچستان نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، سیاسی مشاورت اور اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حسن ہیں، تاہم ایسے فورمز کو صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف بے بنیاد تنقید یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ بلوچستان کے حساس حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں سنجیدگی، اتحاد اور مشترکہ قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں امن و امان کی بحالی، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے کی ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی طور پر سرگرم ہے۔
بابر یوسفزئی نے واضح کیا کہ بلوچستان میں امن کے قیام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن صوبے کا امن، عوام کا تحفظ اور ریاست کی رٹ برقرار رکھنا تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے باہمی تعاون اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔

