عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 جاری، سرکاری بیرونی قرضے 107 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگئے، نجی شعبے کے غیر ضمانتی قرضوں کا حجم 17.58 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، ایک سال میں بیرونی قرضوں میں 4 فیصد اضافہ
اسلام آباد (الفجر آن لائن) پاکستان کے بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 135 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے، جبکہ گزشتہ دس برس کے دوران ملک کے بیرونی قرضوں میں تقریباً دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 کے مطابق 2025 کے اختتام تک پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے بڑھ کر 135.1 ارب ڈالر ہوگئے، جبکہ 2015 میں یہ حجم 68.7 ارب ڈالر تھا۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال کے دوران بیرونی قرضوں میں 4 فیصد اضافہ ہوا، جس سے ملک پر بیرونی مالیاتی دباؤ اور قرضوں کی ادائیگی کے چیلنجز مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے 107 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرضے سرکاری نوعیت کے ہیں، جبکہ نجی شعبے کے غیر ضمانتی بیرونی قرضوں کا حجم 17.58 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک پر 10.45 ارب ڈالر کے قلیل مدتی بیرونی واجبات بھی موجود ہیں، جو بیرونی مالیاتی ضروریات کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین 22.4 ارب ڈالر کے قرضوں کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا دوطرفہ قرض دہندہ ہے۔ عالمی بینک کے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کے ذمے پاکستان کے 19.2 ارب ڈالر جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے 16.83 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ مجموعی طور پر دوطرفہ قرض دہندگان کے ذمے پاکستان کے 42.4 ارب ڈالر کے قرضے ہیں، جبکہ سرکاری بیرونی قرضوں میں کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کا بھی نمایاں حصہ شامل ہے۔
عالمی بینک کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2025 کے دوران پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت مجموعی طور پر 2.3 ارب ڈالر فراہم کیے۔ دوسری جانب چین نے پاکستان کو تقریباً 2 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی میں مہلت بھی دی، جس سے فوری ادائیگیوں کے دباؤ میں کچھ کمی آئی۔
رپورٹ میں سرکاری اور نجی بیرونی قرضوں کی مالیاتی شرائط میں نمایاں فرق کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ نجی شعبے کے بیرونی قرضوں پر اوسط شرح سود 8.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سرکاری قرضوں پر یہ شرح اوسطاً 3.6 فیصد ہے۔ اسی طرح نجی قرضوں کی واپسی کی اوسط مدت صرف تین سال اور رعایتی مدت ایک سال ہے، جبکہ سرکاری قرضوں کی واپسی کی اوسط مدت 16 سال اور رعایتی مدت چار سال ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ مجموعی قومی آمدنی (جی این آئی) کے تقریباً 34 فیصد کے برابر ہے، جبکہ ملک کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تقریباً 33 فیصد حصہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے۔ برآمدی آمدنی کا اتنا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص ہونا ملک کے بیرونی مالیاتی دباؤ اور زرمبادلہ کے وسائل پر بڑھتے ہوئے بوجھ کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ برآمدات میں پائیدار اضافہ کرے، بیرونی قرضے حاصل کرتے وقت نسبتاً کم شرح سود اور طویل ادائیگی کی مدت جیسی بہتر شرائط کو ترجیح دے اور قرضوں کے مؤثر انتظام کے لیے جامع حکمت عملی اپنائے۔ ماہرین کے نزدیک قرضوں پر انحصار کم کرنے، برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے اور معیشت میں پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔

