دیپالپور روڈ پر 17 ایس پی اسٹاپ کے قریب المناک حادثہ، بس میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے تین گھنٹے ریسکیو آپریشن جاری رہا، وزیراعلیٰ مریم نواز کا اظہارِ افسوس، حادثے کی رپورٹ طلب
پاکپتن (الفجر آن لائن) پنجاب کے ضلع پاکپتن میں دیپالپور روڈ پر مسافر بس اور ٹرک کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ 33 زخمی ہوگئے۔ افسوسناک حادثہ 17 ایس پی اسٹاپ کے قریب پیش آیا، جہاں ملتان سے قصور جانے والی مسافر بس مخالف سمت سے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی۔ تصادم اس قدر شدید تھا کہ متعدد مسافر بس میں پھنس گئے، جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو اہلکاروں نے کرین اور بھاری مشینری کی مدد سے تقریباً تین گھنٹے طویل آپریشن کیا۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر کہرام مچ گیا جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز (ڈی ایچ کیو) ہسپتال پاکپتن منتقل کردیا گیا، جہاں ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ڈپٹی کمشنر آصف رضا اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جاوید اقبال چدھڑ نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ بس میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی گئی، جبکہ زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جاتا رہا۔ ضلعی انتظامیہ نے زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اضافی ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بھی طلب کرلیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ دو شدید زخمیوں کو مزید علاج اور بہتر طبی سہولیات کے لیے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے ہسپتال کا دورہ کرکے زخمیوں کی عیادت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکپتن ٹریفک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام سے حادثے کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔
حادثے میں 11 افراد کی ہلاکت اور 33 کے زخمی ہونے کے بعد علاقے میں سوگ اور تشویش کی فضا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے زخمیوں کے علاج معالجے اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

