43 پیٹرول پمپس کی جانچ پڑتال کے دوران 14 پمپس کی 42 نوزلز میں ردوبدل کی تصدیق، تمام مشکوک نوزلز موقع پر سربمہر، چاروں پیٹرول پمپس کے این او سیز بھی منسوخ کیے جائیں گے
اسلام آباد (الفجر آن لائن) وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کو مقررہ مقدار سے کم پیٹرول اور ڈیزل فراہم کرنے اور پیمائش میں مبینہ ردوبدل کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ شہر بھر میں 43 پیٹرول پمپس کی جانچ پڑتال کے دوران 14 پیٹرول پمپس کی 42 نوزلز میں ردوبدل کی تصدیق ہوئی، جنہیں موقع پر ہی سربمہر کردیا گیا، جبکہ مشکوک الیکٹرانک آلات برآمد ہونے پر چار پیٹرول پمپس کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے ان چاروں پیٹرول پمپس کے اجازت نامے (این او سیز) بھی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پیٹرول پمپس پر نصب پیمائشی نوزلز کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد صارفین کو مقررہ مقدار کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی یقینی بنانا اور پیمائش میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی مداخلت کا خاتمہ کرنا ہے۔ معائنے کے دوران مجموعی طور پر 43 پیٹرول پمپس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 14 پمپس کی 42 نوزلز میں ردوبدل سامنے آیا۔ انتظامیہ کی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے تمام متاثرہ نوزلز کو موقع پر ہی سربمہر کردیا۔
انتظامیہ کے مطابق جانچ پڑتال کے دوران 29 پیٹرول پمپس پر ایندھن کی پیمائش مقررہ معیار کے مطابق درست پائی گئی۔ تاہم بعض مقامات پر مشکوک الیکٹرانک آلات کی موجودگی کا انکشاف بھی ہوا، جس پر چار پیٹرول پمپس کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان پمپس کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کرانے کے ساتھ ساتھ ان کے این او سیز منسوخ کرنے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ شہر بھر میں پیٹرول پمپس کی بلاامتیاز جانچ پڑتال جاری رکھی جائے اور صارفین کو مقررہ مقدار سے کم پیٹرول یا ڈیزل فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیمائش میں ردوبدل یا صارفین کے ساتھ دھوکا دہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور ایندھن کی درست پیمائش یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب پیٹرول پمپس کے خلاف قانونی کارروائی، نوزلز کی بندش اور اجازت ناموں کی منسوخی سمیت متعلقہ اقدامات جاری رہیں گے۔

