چچا کے قتل کے بعد واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرکے انتقام کے نام پر تنظیم میں شمولیت کے لیے اکسایا گیا، دیگر لڑکیوں کی بھرتی کا ٹاسک اور فدائی بننے کی پیشکش بھی کی گئی، خاتون نے والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں تفصیلات بیان کردیں۔
پنجگور(الفجرآنلائن): دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کے دوران نوجوانوں اور خواتین کو جذباتی استحصال، ذاتی صدمے اور انتقام کے جذبات کے ذریعے شدت پسند سرگرمیوں میں شامل کرنے کی مبینہ کوششوں کا معاملہ سامنے آگیا۔ پنجگور سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر بلوچ خاتون نے اپنے والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مبینہ دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان کے رابطوں، بھرتی کے طریقہ کار اور خواتین کو تنظیمی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی کوششوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ ان کے چچا کے قتل کے بعد تنظیم سے وابستہ افراد نے واٹس ایپ کے ذریعے ان سے رابطہ کیا اور قتل کا بدلہ لینے کے نام پر انہیں تنظیم میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق ذاتی صدمے اور جذباتی کیفیت کو بنیاد بنا کر انہیں تنظیمی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ خاتون نے مزید بتایا کہ انہیں دیگر لڑکیوں کو بھی تنظیم میں بھرتی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی، جبکہ انہیں فدائی بننے کی پیشکش بھی کی گئی۔ ان کے بقول انہوں نے فتح اسکواڈ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے الزام عائد کیا کہ شدت پسند عناصر بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو ذاتی رنجشوں، انتقام اور گمراہ کن بیانیے کے ذریعے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاتون نے اپنے ماضی کے فیصلوں پر شرمندگی اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ریاست پاکستان کی وفادار رہیں گی اور ملک و معاشرے کے امن کو نقصان پہنچانے والی کسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گی۔ یہ معاملہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں مبینہ طور پر نوجوانوں کی جذباتی کمزوریوں اور خاندانی صدمات سے فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے نیٹ ورکس میں شامل کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ ایسے حالات میں والدین کی رہنمائی، معیاری تعلیم، سماجی شعور اور مؤثر حفاظتی اقدامات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق شدت پسندی سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کی بحالی، نفسیاتی معاونت، تعلیم اور معاشرے میں دوبارہ مثبت کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ وہ ایک محفوظ، باعزت اور تعمیری مستقبل کی جانب واپس آسکیں۔

