آٹو سیکٹر کی برآمدات 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف، الیکٹرک گاڑیوں اور چارجنگ اسٹیشنز کے فروغ کے لیے خصوصی مراعات، گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی اور معیار بہتر بنانے کے لیے 45 اضافی اسٹینڈرڈز متعارف
اسلام آباد (الفجر آن لائن) وفاقی حکومت نے طویل مشاورت کے بعد نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت گاڑیوں کی برآمدات میں اضافے، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ، مقامی صنعت کے معیار میں بہتری اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی اور درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم ہوگا، جبکہ وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان نے اعلان کیا کہ گاڑیوں کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پہلے سال برآمدی مالیت کا 5 فیصد ریوارڈ دیا جائے گا۔ حکومت نے آٹو سیکٹر کی برآمدات 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی کا طویل عرصے سے انتظار کیا جارہا تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران گاڑیوں پر بھاری درآمدی ڈیوٹیز اور مقامی صنعت کو مختلف مراعات فراہم کرنے کے باوجود صارفین کو جدید سہولیات اور بہتر معیار کی گاڑیاں فراہم نہیں کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ متوسط طبقے کے لیے گاڑیوں کی صنعت میں سہولیات پیدا کی جائیں اور عوام کو بہتر معیار کی گاڑیاں مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے، جبکہ سیلز ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے کاربن کے اخراج اور فضائی آلودگی میں کمی آئے گی، جس سے ماحول کے ساتھ ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئی پالیسی کے تحت ایک ہزار سی سی تک پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی طویل مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے اور اس میں برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کو بنیادی ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برس کے دوران آٹو سیکٹر کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا، تاہم نئی پالیسی کے ذریعے اس شعبے کی برآمدات کو 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ برآمدات کے فروغ کے لیے پہلے سال برآمدی مالیت کا 5 فیصد ریوارڈ بھی دیا جائے گا، جبکہ مقررہ برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والے اداروں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
ہارون اختر خان نے مزید بتایا کہ نئی پالیسی کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی آنے کی توقع ہے، جس سے بالخصوص متوسط اور اعلیٰ متوسط طبقے کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ آٹو انڈسٹری ملکی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے مقامی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے گاڑیوں کے معیار سے متعلق 45 اضافی اسٹینڈرڈز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی گاڑی ساز ادارے کو گاڑی کی قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت الیکٹرک وہیکلز کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کے بعد متبادل توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ نئی پالیسی کے ذریعے مقامی گاڑیوں کا معیار بہتر بنانے، صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے اور پاکستانی گاڑیوں کو عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی صنعت کو محض اندرون ملک فروخت تک محدود رکھنے کے بجائے برآمدات پر مبنی شعبے میں تبدیل کرنا، درآمدی بل میں کمی لانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور صارفین کو بہتر معیار کی گاڑیاں فراہم کرنا ہے۔ پالیسی پر مؤثر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان کے آٹو سیکٹر کو عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام دلانے میں مدد مل سکتی ہے۔

