بلوچستان پولیس کے مطابق دونوں واقعات مختلف تاریخوں میں پیش آئے، بلڈ پریشر بڑھنے پر 4 سے 5 زیرِ تربیت اہلکاروں کو بھی احتیاطاً ہسپتال منتقل کیا گیا، تمام کی حالت خطرے سے باہر ہے
کوئٹہ (الفجر آن لائن) بلوچستان پولیس نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں زیرِ تربیت اہلکاروں کو پیش آنے والے واقعات کو فوڈ پوائزننگ سے جوڑنے والی سوشل میڈیا اطلاعات مسترد کردی ہیں۔ ترجمان بلوچستان پولیس کی جانب سے جاری بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ کالج میں دو اہلکاروں کو مختلف تاریخوں میں کارڈیک اریسٹ کے واقعات پیش آئے، جبکہ بعض دیگر اہلکاروں کو بلڈ پریشر بڑھنے پر احتیاطی طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق ضلع شیرانی سے تعلق رکھنے والے اہلکار سمیع اللہ کو 5 نومبر کو کارڈیک اریسٹ ہوا۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ اسی طرح ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے مرزا خان کو 7 نومبر کو کارڈیک اریسٹ پیش آیا، جس پر انہیں فوری طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مرزا خان لیویز فورس سے پولیس میں انضمام کے بعد پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں تربیت حاصل کر رہے تھے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ پولیس اور محکمہ ایکسائز کے 4 سے 5 زیرِ تربیت اہلکاروں کا بلڈ پریشر بڑھنے پر انہیں احتیاطی طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ طبی معائنے اور ضروری علاج کے بعد تمام متاثرہ اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
بلوچستان پولیس کے مطابق پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں ناقص خوراک یا فوڈ پوائزننگ کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا اور زیرِ تربیت اہلکاروں کو پیش آنے والے واقعات کا کالج کے انتظامی نظام کی کسی کمزوری سے تعلق نہیں ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج شہزاد اکبر کی ہدایت پر ڈپٹی کمانڈنٹ محمد آصف غلزئی نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ ڈپٹی کمانڈنٹ خود کالج میں موجود ہیں اور انتظامی و طبی انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کالج میں صورتحال معمول کے مطابق ہے، ڈسپنسری فعال ہے اور ایمبولینسز بھی دستیاب ہیں۔
بلوچستان پولیس نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات اور قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور حساس معاملات میں صرف مستند اور تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کریں۔

