تاہم پاکستانی حکام اب تک اس تجویز کی سخت مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا،جی ایس ٹی میں اضافے سے سولر پینلز، الیکٹرک کاریں مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال کے 15 ہزار ارب روپے سے زائد کےٹیکس ریونیو ہدف کے حصول اور رواں مالی سال کے ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی موجودہ شرح کو 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز دی ہےاس پر عملدرآمد کی صورت میں ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا جب کہ الیکٹرک گاڑیوں اورسولر پینلز پر ٹیکس عائد کرنے کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ویب نیوز کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں میں حکومت مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے، آئی ایم ایف کی تجویز پر الیکٹرک وہیکلز ( ای ویز ) اور ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس میں بھاری اضافے کی تجاویز زیر غور ہیں، جس سے ان گاڑیوں کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں ۔
بجٹ میں ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ سیلز ٹیکس کی شرح 8 فیصد کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح 1 فیصد سے بڑھا ر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح سولر پینلز پر جی ایس ٹی کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا امکان ہے۔
ان تجاویز پر عملدرآمد کی صورت میں الیکٹرک کاریں، موٹر سائیکلیں، رکشے، ٹرک، بسیں بلکہ الیکٹرک پک اپ، ٹریکٹر اور ڈبل کیبن گاڑیوں کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر بڑھ جائیں گی۔
وزارت صنعت وپیداوار کے حکام نے الیکٹرک ، ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینلز پر جی ایس ٹی میں اضافے کی تجاویز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تجاویز زیر غور ہیں تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق اگر آئی ایم ایف بجٹ سازوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو صرف ایک فیصد اضافے سے 250 سے 300 ارب روپے اضافی محصولات حاصل ہو سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے یہ تجویز رواں مالی سال میں نظرِثانی شدہ محصولات کے ہدف کے حصول میں ناکامی اور محصولات کی کمی کو دیکھتے ہوئے پیش کی ہے۔
