کوئٹہ (الفجرآن لائن) قلعہ عبداللہ کے علاقے میزئی اڈہ میں فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، نعشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
واقعہ کے خلاف علاقہ مکینوں، قبائلی عمائدین، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کو بلاک کرکے دھرنا دے دیا۔ دھرنے کے شرکاء سے اے این پی کے مرکزی رہنماء پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ، داؤد خان اچکزئی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ذیشان خان پانیزئی، ڈی پی او قلعہ عبداللہ عبدالرشید، اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ سردار عبداللہ خان نے مظاہرین سے مذاکرات کئے اور روڈ کو کھلوا دیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب قلعہ عبداللہ کے علاقے میزئی اڈہ میں فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد داد محمد، عبدالمتین، عبدالجبار، محمد رضا، اسلام موقع پر جاں بحق جبکہ سید جعفر، سید جمیل احمد زخمی ہوگئے فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر نعشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا نعشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی واقعہ کے خلاف اور ملزمان کی گرفتاری کیلئے علاقہ مکینوں نے قومی شاہراہ کو بلاک کرکے احتجاج کیا، جس سے ہر قسم کی ٹریفک معطل ہوگئی اور سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ سیاسی جماعتوں، علاقہ مکینوں نے دھرنا دیکر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے جس کے بعد مظاہرین سے مذاکرات کئے گئے اور مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کردیا اور پر امن طور پر منتشر ہوگئے اور قومی شاہراہ کو ٹریفک کی آمدو رفت کے لئے کھول دیا گی
