ٓاسلام آباد(الفجرآن لائن)بجٹ 2026-27میں مجوزہ ٹیکس اقدامات سامنے آئے ہیں‘آئندہ بجٹ میں متعدد اشیاء پر رعایتی جی ایس ٹی ختم کیے جانے کا امکان ہے اورحکومت ٹیکس نیٹ میں توسیع اور محصولات بڑھانے کے لیے نئی اصلاحات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس مراعات برقرار رہنے یا ختم ہونے کا فیصلہ بجٹ میں متوقع ہے، درآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے، زرعی شعبے کے لیے ٹریکٹرز اور ڈی اے پی کھاد پر دی گئی ٹیکس رعایتیں کم یا ختم کرنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے۔ پولٹری اور مویشیوں کی خوراک پر ٹیکس شرح میں اضافے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق سولر فوٹو وولٹائیک سیلز پر موجود ٹیکس سہولت واپس لیے جانے کا امکان ہے، اسٹیشنری اور بعض بنیادی اشیائے خورونوش پر بھی ٹیکس رعایت کم یا ختم ہونے کا امکان ہے، آٹھویں شیڈول کے تحت حاصل ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس استثنیٰ کم کرنے کے اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت ترجیحی ٹیکس رعایتوں کے بجائے یکساں ٹیکس نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، مجوزہ اقدامات کے باعث متعدد مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، بجٹ میں سیلز ٹیکس پالیسی کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں، محصولات میں اضافے کے لیے رعایتی شرحوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے، وفاقی بجٹ مختلف شعبوں کے لیے ٹیکس مراعات کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
