پرنٹ میڈیا کو نظرانداز کرنا آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ہوگا
اشتہارات کی نئی پالیسی سے درجنوں اخبارات اور ہزاروں میڈیا کارکنوں کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے
تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر پالیسی کا نفاذ افسوسناک ہے
وزیراعلیٰ بلوچستان اور کابینہ فوری نظرثانی کرکے پرنٹ میڈیا کے تحفظ کو یقینی بنائیں
کوئٹہ (پ ر)چیئرمین بلوچستان پرنٹ میڈیا سید انور شاہ نے صوبائی کابینہ کی جانب سے اشتہاراتی پالیسی 2026 کی منظوری اور یکم جولائی 2026 سے اس کے نفاذ کے فیصلے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بلوچستان کے پرنٹ میڈیا، آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید میڈیا رجحانات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نئی ٹیکنالوجی کو حکومتی پالیسیوں کا حصہ بنانا یقیناً وقت کی ضرورت ہے، تاہم اس عمل میں پرنٹ میڈیا کے تاریخی، پیشہ ورانہ اور قومی کردار کو نظر انداز کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں اخبارات آج بھی عوام اور ریاست کے درمیان رابطے کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ ہیں اور دور دراز علاقوں کے مسائل کو حکومتی ایوانوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں
۔سید انور شاہ نے کہا کہ اشتہاراتی پالیسی کے مجوزہ نکات سامنے آنے کے بعد صوبے کی متعدد سیاسی جماعتوں، صحافتی تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ پالیسی کو تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے۔ گورنر بلوچستان نے بھی اس پالیسی کو مزید بہتر بنانے اور قابلِ قبول بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا، لیکن ان تجاویز اور تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے پالیسی کی منظوری افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کو محدود تعداد کے اخبارات تک محدود کرنے اور اشتہارات کی تقسیم کے طریقہ کار میں یکطرفہ تبدیلیوں سے صوبے کے درجنوں اخبارات، صحافیوں، کارکنوں، کمپوزرز، ڈیزائنرز، طباعتی عملے اور تقسیم کاروں کے روزگار کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں میڈیا کے تنوع، عوامی نمائندگی اور مختلف مکاتب فکر کی آوازوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔
چیئرمین بلوچستان پرنٹ میڈیا نے وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی کابینہ کے معزز اراکین اور محکمہ اطلاعات سے مطالبہ کیا کہ اشتہاراتی پالیسی 2026 پر فوری نظرثانی کی جائے اور اس کے نفاذ سے قبل تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامعنی مشاورت کا عمل شروع کیا جائے تاکہ ایک ایسی متوازن، منصفانہ اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسی تشکیل دی جا سکے جو ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کے تحفظ، آزادیٔ اظہار اور جمہوری روایات کو بھی یقینی بنائے۔سید انور شاہ نے کہا کہ آزاد، ذمہ دار اور متنوع میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
ایسے فیصلوں سے گریز کیا جانا چاہیے جو عوام کی حقیقی آوازوں کو محدود کریں یا میڈیا کے ایک اہم اور قابلِ اعتماد شعبے کو کمزور کرنے کا سبب بنیں۔
