کوئٹہ (الفجرآن لائن)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ دو سالہ طویل قانونی جدوجہد کے بعد شہید شبیر بلوچ کے قتل کیس میں انصاف کی فراہمی قانون کی بالادستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید شبیر بلوچ نے دورانِ ڈیوٹی اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور ریاست ان کی اس عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ شہید کے خون کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا کیونکہ شہریوں کو انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے اور تشدد کو فروغ دینے والوں کے لیے نظام میں کوئی رعایت نہیں ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں تنبیہ کی کہ پرامن احتجاج کی آڑ لے کر ریاستی اہلکاروں اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے والے عناصر اب قانون کی گرفت سے کسی صورت نہیں بچ سکیں گے۔ حکومتِ بلوچستان دکھ کی اس گھڑی میں شہید شبیر بلوچ کے سوگوار اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن و امان کے حوالے سے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تشدد، انتشار اور قانون شکنی کو کسی بھی سطح پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے تمام عناصر کے خلاف ریاستی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے دشمنوں کے خلاف یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی، کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں ہی صوبے میں مستقل امن کے قیام اور ریاستی رٹ کے استحکام کی اصل ضمانت ہیں
