اسپیکر نے شکوہ کیا کہ ان کے بارے میں ”حوالدار” کا لفظ استعمال کیا گیا،حکومت غریبوں کیلئے کام کریگی تو حمایت کرینگے، اچکزئی
اسلام آباد(الفجرآن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان ایک بار پھر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کل آپ نے میری باتوں کا جواب دیا، حالانکہ آپ اسپیکر ہیں اور آپ کا کام ہماری باتوں کا جواب دینا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چمن میں پشتو زبان میں تقریر کی تھی اور اگر کسی کو سمجھنا ہے تو میجر عامر کی ڈیوٹی لگائیں، وہ پشتو سمجھتا ہے۔محمود خان اچکزئی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ یہاں نہ کوئی قانون ہے اور نہ عدالت، اس لیے لوگ اپنے فیصلے پنچایتوں کے ذریعے کریں۔
انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت غریبوں کے لیے کام کرے گی تو اپوزیشن اس کی حمایت کرے گی، لیکن اگر گولیاں چلائی جائیں اور لوگوں کو جیلوں میں ڈالا جائے گا تو مخالفت کی جائے گی۔اس دوران اسپیکر ایاز صادق نے بھی اپوزیشن لیڈر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1998 میں پی ٹی آئی چھوڑ دی تھی اور 2001 میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، اور یہ فیصلہ اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ایک مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ دینے کے لیے کیا تھا۔اسپیکر نے شکوہ کیا کہ ان کے بارے میں ”حوالدار” کا لفظ استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا، میں دو حوالداروں کو جانتا ہوں، ایک وہ جو سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے اور دوسرا وہ جو چوروں، ڈاکوں اور منشیات فروشوں کو پکڑتا ہے۔ایاز صادق نے کہا کہ وہ بھی ایک انسان ہیں اور کسی کی دل آزاری نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو مقررہ وقت سے دوگنا وقت دیا گیا اور بجٹ بحث میں 67 اپوزیشن ارکان کو اظہار خیال کا موقع ملا۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا،آپ لوگوں پر پینا ڈول والا اثر ہوتا ہے، تین چار گھنٹے بعد اثر اتر جاتا ہے اور پھر باہر جا کر کہتے ہیں کہ اسپیکر بولنے نہیں دیتا
