محمود خان اچکزئی میرے بھائی ہیں، لیکن وہ ان لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے عجیب و غریب لگتے ہیں
اسلام آباد(الفجرآن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی نظام کو جتنا نقصان بانی پی ٹی آئی نے پہنچایا، اتنا گزشتہ 78 برسوں میں کسی نے نہیں پہنچایا۔خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی میرے بھائی ہیں، لیکن وہ ان لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے عجیب و غریب لگتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی اپنی کوئی سیاسی روایات نہیں اور نہ ہی ان کی جماعت کے اندر جمہوریت موجود ہے، پھر یہ کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے اسی ایوان میں 90 کی دہائی کی شدید سیاسی کشیدگی دیکھی ہے، جب ارکان کے درمیان ہاتھا پائی اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا تھا، تاہم بعد میں سیاسی جماعتوں نے یہ احساس کیا کہ جمہوری نظام کے لیے ایک ضابطہ اخلاق اور طریقہ کار ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں پارلیمان کے اندر جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔مراد سعید ان میزوں پر دوڑتے تھے،خواجہ آصف نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔خواجہ آصف نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے تجویز دی کہ ایک بار پھر "چارٹر آف ڈیموکریسی” کی طرز پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور جمہوری روایات کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی بات کرتے ہیں تو ماضی پر بھی نظر دوڑانی چاہیے، ہم دو سیاسی جماعتوں نے ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے جس نے جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔اس دوران محمود خان اچکزئی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا، "بس کافی ہو گیا”، جس پر خواجہ آصف نے اپنی تقریر سمیٹتے ہوئے نشست سنبھال لی۔ وزیر دفاع نے اپنے حالیہ سوشل میڈیا بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیریوں کی قربانیوں اور ہجرت کا ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جانیں ہم نے بھی دی ہیں اور کشمیریوں نے بھی قربانیاں دی ہیں، ہم نے پانچ جنگیں لڑی ہیں، لیکن اس کے صلے میں ہمیں گالیاں دی جاتی ہیں
