لاہور (الفجرآن لائن)گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے جائز مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف پنجاب سمیت ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کردی، جس سے اربوں روپے کی تجارت متاثر اور اشیا کی ترسیل رک گئی۔ چیئرمین پنجاب گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن ملک محمد جمیل نے مطالبات تسلیم ہونے تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک محمد جمیل نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز مجبور ہوکر ہڑتال پر جاتے ہیں، جب اخراجات آمدن سے بڑھ جائیں اور کاروبار مسلسل نقصان کا شکار ہو تو ہڑتال کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ٹیکسز، غیر ضروری چیک پوسٹوں، نیشنل ہائی ویز، موٹروے، ٹریفک پولیس، محکمہ ماحولیات اور ڈرائی پورٹ سمیت مختلف اداروں کی مبینہ رشوتوں اور بھاری جرمانوں نے گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار تباہ کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ متاثر ہونے سے ڈرائیورز سمیت دیگر ملازمین بھی بے روزگار ہورہے ہیں۔ جی ٹی روڈ پر فی کلومیٹر 17 روپے جبکہ موٹروے پر 25 سے 30 روپے تک مختلف ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ وزن کرنے کے بعد دوبارہ اوور ویٹ قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
ملک محمد جمیل نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی کو سڑک پر نہیں چلنا چاہیے، ٹرانسپورٹرز قانون کے مطابق عملدرآمد کرتے ہیں، اس کے باوجود مبینہ طور پر ناجائز جرمانے، غیر قانونی پکڑ دھکڑ اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز پہلے ہی مختلف ٹیکسز ادا کررہے ہیں، اگر ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی مزید ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب گیا تو ملکی معیشت شدید متاثر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ٹول ٹیکس میں 200 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے، 200 سے 750 روپے تک ٹول ٹیکس اور 24 ہزار روپے تک ٹریفک چالان جرمانے مقرر کرنا ٹرانسپورٹرز کے ساتھ زیادتی

