پاکستان علاقائی تنازعات کے پرامن حل، آبنائے ہرمز کی آزادانہ حیثیت کے تحفظ اور دہشتگردی کےخلاف مؤثر اقدامات کا حامی، ترجمان
پاکستان نے افغان عوام کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا بلکہ صرف اپنے شہریوں کے تحفظ اور حقِ دفاع کے تحت کارروائیاں کیں
افغان سرزمین سے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بعد سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل ممکن نہیں رہا، ہفتہ وار پریس بریفنگ
اسلام آباد (الفجرآن لائن) دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان علاقائی تنازعات کے پرامن حل، آبنائے ہرمز کی آزادانہ حیثیت کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف مو¿ثر اقدامات کا حامی ہے۔ افغان سرزمین سے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بعد سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل ممکن نہیں رہا۔ ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ لیک لوسرن سمٹ کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں متعدد ٹھوس نکات شامل کیے گئے ہیں اور پابندیوں کے خاتمے سمیت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے عمل پر پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برگن اسٹاک میں مذاکرات فی الحال عارضی وقفے پر ہیں تاہم آئندہ ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا۔
ترجمان کے مطابق مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے 3 خصوصی تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں۔ پہلا گروپ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ دوسرا گروپ پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے مسائل پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تیسرا ورکنگ گروپ لبنان کی صورتحال اور اس سے متعلق امور کا جائزہ لے رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان گروپس کی سفارشات کی روشنی میں مذاکرات کے آئندہ مراحل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہو چکی ہے جبکہ اس کی حتمی حیثیت کے تعین کے لیے بات چیت جاری ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ آبنائے ہرمز کے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آر فور (R-4) ممالک نے بھی علاقائی مسائل کے حل کے لیے علاقائی سطح پر تعاون کی حمایت کی ہے۔بھارت کے حوالے سے سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے نامناسب بیانات کوئی نئی بات نہیں اور پاکستان کی توجہ مستقبل، علاقائی استحکام اور تعمیری سفارت کاری پر مرکوز ہے۔افغانستان کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ اگست 2021 سے اکتوبر 2025 تک پاکستان نے سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی مسلسل کوشش کی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ذاتی طور پر کئی معاملات میں پیش رفت ممکن بنائی۔ تاہم افغان سرزمین سے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بعد سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل ممکن نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان عوام کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا بلکہ صرف اپنے شہریوں کے تحفظ اور حقِ دفاع کے تحت کارروائیاں کیں۔ ترجمان نے بتایا اگر سفارت کاری کا عمل دوبارہ مکمل طور پر بحال ہونا ہے تو افغانستان کی جانب سے یہ قابلِ تصدیق یقین دہانی ضروری ہوگی کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے چین کے کردار کو سراہتا ہے اور دونوں ممالک اس معاملے پر قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجمان نے کہا پاکستان کو کالعدم ٹی ٹی پی جبکہ چین کو ای ٹی آئی ایم سے خطرات لاحق ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے مفادات اور سکیورٹی خدشات مشترک ہیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان نے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات سے متعلق حالیہ پیش رفت پر قانونی اور متوازن مو¿قف اختیار کیا ہے اور ان ممالک کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین میں پاکستانی وفد کی شرکت سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ وفد کی حتمی تشکیل کا فیصلہ ملکی اعلیٰ قیادت کرے گی۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ 22 جون کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نبیل منیر نے پاکستان کی نمائندگی کی
