کراچی (الفجرآن لائن)کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع سندھ رینجرز کے مقامی ہیڈکوارٹرز پر دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور اور فوری جوابی کارروائی کے نتیجے میں تمام حملہ آور ہلاک ہو گئے، تاہم فائرنگ کے شدید تبادلے میں رینجرز کے 3 اہلکار بھی جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔
سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو کے مطابق، حملہ شام کے وقت یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب رینجرز کی تنصیبات پر کیا گیا۔ دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی ہیڈکوارٹرز کے مین گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد ایک زوردار دھماکا ہوا جس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز کو الجھانے کے لیے دہشت گردوں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
گیٹ پر تعینات رینجرز کے جوانوں نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوزیشنز سنبھالیں اور حملہ آوروں کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ رینجرز اور دہشت گردوں کے درمیان تقریباً آدھے گھنٹے تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کمانڈوز، اسپیشل سیکیورٹی یونٹ اور اینٹی ٹیررسٹ فورس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مشترکہ جوابی آپریشن شروع کیا گیا۔
آئی جی سندھ نے تصدیق کی ہے کہ اس مقابلے میں 3 رینجرز اہلکار شہید جبکہ 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ رینجرز کا ایک اہلکار ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوا ہے جسے طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس اور سرچ آپریشن مکمل کر لیا ہے اور اب آس پاس کی بند سڑکوں کو ٹریفک کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے دھماکے کی نوعیت اور بارودی مواد کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے
