اسلام آباد(الفجرآن لائن)وفاقی کابینہ نے اپنے گزشتہ اجلاس میں نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 کی منظوری دے دی، جو پاکستان کے ہاؤسنگ سیکٹر اور شہری ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
جبکہ وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات سید ریاض حسین پیرزادہ نے پالیسی کی تیاری پر ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 کی منظوری وزارت کے لیے ایک اہم کامیابی اور تاریخی سنگِ میل ہے، پاکستان تقریبا ایک چوتھائی صدی سے ایک تازہ اور جامع نیشنل ہاؤسنگ پالیسی سے محروم تھا۔
یہ پالیسی ملک میں مکانات کی کمی اور شہری ترقی کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واضح سمت فراہم کرے گی اور پاکستان بھر میں جامع، سستی اور پائیدار رہائشی ترقی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔
یہ منظوری تقریبا 25 سال بعد عمل میں آئی ہے، کیونکہ ملک کی سابقہ ہاؤسنگ پالیسی 2001 میں منظور کی گئی تھی۔نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 کی منظوری سے ایک جامع قومی فریم ورک کی دیرینہ ضرورت پوری ہوگی، جس کا مقصد ہاؤسنگ اور شہری منصوبہ بندی کی ترقی کے لیے واضح سمت فراہم کرنا ہے۔
یہ پالیسی ہاؤسنگ اور شہری ترقی کو درپیش متنوع اور بدلتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مرتب کی گئی ہے، جبکہ مستقبل کے لیے مربوط، جامع اور پائیدار حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔
پالیسی کا بنیادی وژن سب کے لیے مناسب، سستی اور پائیدار رہائش کی فراہمی کو فروغ دیتا ہے، جبکہ رہائش کے مواقع، بنیادی سہولیات اور معاون انفراسٹرکچر تک بہتر رسائی کو یقینی بنانا بھی اس کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026 میں ہاؤسنگ اور شہری ترقی کے شعبے کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے نو واضح موضوعات شامل کیے گئے ہیں، جن میں رہائش کے لیے اراضی، ہاؤسنگ فنانس، تعمیراتی خدمات، ٹیکنالوجی اور تعمیراتی مواد، درمیانے اور ثانوی شہروں کی ترقی، کچی آبادیاں اور اسکواٹر سیٹلمنٹس، سستی رہائش، کم آمدنی والے طبقے کے لیے کم لاگت اور دیہی رہائش، جبکہ استعدادِ کار میں اضافہ اور علم و تجربات کا تبادلہ شامل ہیں۔

