نئی دہلی (الفجرآن لائن)بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں رواں سال اب تک جنگلی جانوروں کے حملوں میں 50 افراد جان سے جا چکے ہیں۔بھارتی میڈیارپورٹ کے مطابق شیروں کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والی ریاست مدھیہ پردیش میں جنگلی حیات اور انسانی آبادی کے درمیان تصادم خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
بھارتی محکمہ جنگلات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2026ء کے پہلے 8 ماہ میں جنگلی جانوروں کے حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسی عرصے میں 45 سے زائد شیروں کو بھی ہلاک کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 50 انسانی ہلاکتوں میں 22 افراد شیروں، 8 جنگلی سوروں، 7 ہاتھیوں، 4 ریچھوں اور 1 شخص تیندوے کے حملے میں مارا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 16 خواتین اور لڑکیاں بھی شامل تھیں۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے ضیاع میں مارچ، اپریل اور مئی سب سے خطرناک مہینے ثابت ہوئے، صرف ان 3 ماہ میں 30 افراد ہلاک ہوئے، مارچ میں 7، اپریل میں 13 اور مئی میں 10 افراد جان سے گئے۔یہ وہ عرصہ بھی ہے جب دیہی اور قبائلی آبادی کی بڑی تعداد جنگلات کا رخ کرتی ہے تاکہ تیندو کے پتے، مہوا کے پھول، لکڑی اور دیگر جنگلاتی اشیاء جمع کر سکے، جس کے باعث انسانوں اور جنگلی جانوروں کا آمنا سامنا بڑھ جاتا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش میں انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم نیا مسئلہ نہیں۔بھارتی محکمہ جنگلات کے مطابق 2020ء سے جنگلی جانوروں کے حملوں میں 406 افراد ہلاک اور 5,804
زخمی ہوئے جبکہ 72,627 مویشی بھی حملوں میں ضائع ہوئے۔اسی عرصے میں ریاستی حکومت نے انسانی ہلاکتوں اور مویشیوں کے نقصان کے معاوضے کی مد میں عوام کو 88.38 کروڑ روپے سے زائد ادا کیے۔ریاست میں شیروں کی تعداد 2022ء کی قومی مردم شماری میں بڑھ کر 785 ہو گئی تھی اور حکام و ماہرین کے مطابق اب یہ تعداد تقریباً 1 ہزار تک پہنچ چکی ہے

