اسلام آباد(الفجرآن لائن)اوگرا نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کی سفارشات تیار کرلی۔
کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کی جائینگی۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے غیر قانونی پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور منتقلی کی روک تھام کے لیے آئل ریگولیٹری فریم ورک میں ترامیم پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اوگرا کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کو پیش کردہ رپورٹ میں، پیٹرولیم مصنوعات کی ریگولیٹری خلاف ورزیوں پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
اس اقدام کا مقصد غیر قانونی فروخت روکنا اور تادیبی کارروائی و قانون پر عملدرآمد کو مزید مثر بنانا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوگرا اپنے معمول کے مطابق اپنے ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ لیتا اور اسے مستحکم کرتا رہتا ہے۔
قابلِ اطلاق آئل قوانین اور قواعد و ضوابط میں وقتا فوقتا ضروری ترامیم کی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں آئل ریگولیٹری فریم ورک میں ترامیم زیرِ غور ہیں۔
اوگرا نے واضح کیا کہ کسٹمز بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی فروخت پر کارروائی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان کسٹمز کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز یا پیٹرولیم لیوی کی چوری سے متعلق سخت سزاں اور قانونی ترامیم کا فیصلہ بھی ایف بی آر کے دائرہ کار میں ہے

