فیملی کورٹ کو بیوی کے ذاتی سامان اور زیورات کے کیسز سننے کا مکمل اختیار ہے،عدالت عظمیٰ، حکم نامہ جاری
اسلام آباد(الفجرآن لائن)سپریم کورٹ نے کہاہے کہ شوہر یاسسرال شادی میں دلہن کو ملنے والے سونے کے زیورات نہیں لے سکتا وہ دلہن کی ذاتی ملکیت ہیں، سپریم کورٹ نے حکمنامہ جاری کیا ہے۔حکم نامے کے مطابق شوہر یا سسرال دلہن کے زیورات پر کوئی ملکیتی حق نہیں رکھتے۔ دلہن کے زیورات روکنا اس کے ملکیتی حقوق سے غیرقانونی محرومی ہے۔ بیوی اپنے زیورات کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کرسکتی ہے۔والدین کی جانب سے دلہن کو دیا گیا سونا اس کی مکمل ذاتی ملکیت قرار، حکمنامے میں مزید کہا کہ دلہن کو ملنے والے برائیڈل گفٹس بھی اس کی ذاتی ملکیت تصور ہوں گے،
کسی تحفے کی ملکیت کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ کس نیت سے دیا گیا تھا۔دلہن کو ملنے والے زیورات اور تحائف اکثر خواتین کے لیے مالی تحفظ اور خودمختاری کا ذریعہ ہوتے ہیں، شوہر یا اس کے اہلِ خانہ کو ان تحائف پر قبضہ رکھنے یا ناجائز استعمال کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔فیملی کورٹ کو بیوی کے ذاتی سامان اور زیورات کے کیسز سننے کا مکمل اختیار ہے۔ شوہر اور ساس کے خلاف زیورات کی واپسی کا دعوی فیملی کورٹ میں قابلِ سماعت ہے،سپریم کورٹ نے سونے کے زیورات سے متعلق اپیل مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کردی
۔حکمنامہ کے مطابق فیملی کورٹ کو بیوی کے ذاتی سامان، زیورات کے کیسز سننے کا مکمل اختیار ہے، سپریم کورٹ نے سونے کے زیورات سے متعلق اپیل مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کردی۔عدالت عظمی کے حکمنامہ کے مطابق شوہر، ساس کے خلاف زیورات کی واپسی کا دعوی فیملی کورٹ میں قابلِ سماعت ہے۔حکم نامہ کے مطابق دلہن کو ملنے والے برائیڈل گفٹس بھی اس کی ذاتی ملکیت تصور ہوں گے
