مضمون: عظمی ہرلینی
پاکستان کا یومِ آزادی محض پرچم کشائی، پریڈ اور تقریبات کا سالانہ اعادہ نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ یہ قوم اپنے وطن کی سلامتی، خودمختاری اور آسمانوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ مضبوط، باوقار اور کسی سے کم تر نہیں رہے گی۔ موجودہ دور میں یہ عہد پاک فضائیہ کی صورت میں سب سے نمایاں انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے، جس نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی بصیرت افروز قیادت میں سبز و سفید پرچم کے رنگوں کو قوت، قربانی اور تزویراتی پختگی کی زندہ علامت بنا دیا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان ایئر فورس کو ’’ایک ایسی مؤثر فضائی قوت جو کسی سے کم تر نہ ہو‘‘ دیکھنے کا خواب دیا تھا۔ یہ تصور محض تعداد، سازوسامان یا ظاہری شان و شوکت پر نہیں بلکہ نظم و ضبط، کردار اور پیشہ ورانہ مہارت پر استوار تھا۔ ایک نوخیز فضائی قوت کے ابتدائی چیلنجز سے لے کر 1965ء اور اس کے بعد کی شاندار جنگی کارکردگی تک، پاک فضائیہ نے قائد کے الفاظ کو محض نعرہ نہیں بلکہ ایک مقدس عہد سمجھا۔ ایسا عہد جسے ہر نسل کے ’’مردانِ آسمان‘‘ کو میدانِ عمل میں بار بار ثابت کرنا ہے۔
ہر یومِ آزادی پر جب سبز ہلالی پرچم بلند ہوتا ہے تو یہ عہد بھی نئی قوت کے ساتھ زندہ ہوتا ہے۔ آج یہ عزم ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں غیر معمولی وضاحت سے نمایاں ہے۔ 2021ء میں ان کی جانب سے کمان سنبھالنا محض ایک معمول کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ نظریاتی، عملی اور تکنیکی احیا کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ خطے کے پیچیدہ اور متحرک تزویراتی ماحول میں انہوں نے واضح راستہ اختیار کیا کہ پاک فضائیہ محض شہ سرخیوں کے لیے جدید پلیٹ فارم حاصل کرنے کے بجائے ایسی فیصلہ کن جنگی صلاحیتیں تعمیر کرے گی جو زمین، فضا، خلا، سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر کے میدانِ جنگ کو ایک مربوط نظام میں ڈھال دیں۔
اسی وژن کے تحت پاک فضائیہ نے پلیٹ فارم مرکز سوچ سے نکل کر ’’کِل چین‘‘ پر مبنی نظریۂ جنگ اختیار کیا، جس میں دشمن کو تلاش کرنے، شناخت کرنے، مسلسل نگرانی رکھنے، ہدف مقرر کرنے، مؤثر کارروائی کرنے اور نتائج کا جائزہ لینے کے تمام مراحل رفتار، درستگی اور ہم آہنگی کے ساتھ انجام دیے جاتے ہیں۔ ریڈارز، فضائی نگرانی و کنٹرول کے جدید نظام، لڑاکا طیارے، بغیر پائلٹ طیارے، مسلح ڈرونز، زمینی فضائی دفاع اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار اب ایک مربوط اور ذہین نظام کا حصہ ہیں، جس کا بنیادی اصول ہے: پہلے دیکھو، پہلے فیصلہ کرو اور پہلے وار کرو۔ یوں جدیدیت صرف ہارڈویئر تک محدود نہیں رہی بلکہ سوچ، حکمتِ عملی اور جنگی فلسفے کی مکمل تجدید کا ذریعہ بنی ہے۔
آج پاکستان کے پاس جدید جنگی طیاروں کا ایک مؤثر بیڑا موجود ہے، جس میں جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری، ایف-16 کے مختلف ماڈلز اور حال ہی میں شامل کیے گئے جے-10 سی لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ ان کے ساتھ جدید اور دور مار فضائی میزائل، ہائپرسونک ہتھیار اور درست نشانے کی صلاحیت رکھنے والے وار ہیڈز فضائی قوت کو مزید مؤثر بناتے ہیں۔ مستقبل میں مقامی اسٹیلتھ پروگرام، پی ایف ایکس سمیت پانچویں نسل کی متعدد صلاحیتوں کی شمولیت پاک فضائیہ کو ایک ایسے دور میں داخل کرے گی جہاں اسٹیلتھ، لچک اور مؤثر بازداریت جنگی نظریے کے بنیادی عناصر ہوں گے۔
تاہم فضائی برتری صرف طیاروں کی تعداد سے حاصل نہیں ہوتی۔ پاک فضائیہ نے جنگی قوت کے ضرب کار عناصر، الیکٹرانک وارفیئر، خلائی اور سائبر صلاحیتوں پر بھی غیر معمولی توجہ مرکوز کی ہے، جنہوں نے فضائی، زمینی، بحری اور ڈیجیٹل میدانِ جنگ کو ایک متحد کِل چین میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایم اے ایل ای اور ایچ اے ایل ای ڈرونز، لوئٹرنگ میونیشنز اور انسان و مشین کے باہمی اشتراک جیسے تصورات نے میدانِ جنگ کی وسعت اور تسلسل دونوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے مسلسل نگرانی، فاصلے سے حملے اور دشمن کے دفاع کو بیک وقت دباؤ میں لانا ممکن ہوا ہے۔
نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارکس جیسے اداروں کے ذریعے پاک فضائیہ نے ایک ایسا قومی ٹیکنالوجیکل ماحولیاتی نظام تشکیل دیا ہے جہاں ریڈارز، الیکٹرانک وارفیئر نظام، مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور ایویانکس مقامی سطح پر ڈیزائن، آزمائے اور عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک نے پاکستان کو محض درآمدی انحصار سے نکال کر جدت پر مبنی خود انحصاری کی جانب گامزن کیا ہے۔ اب پابندیاں، اسلحہ جاتی قدغنیں یا بدلتے ہوئے عالمی مفادات پاکستان کی فضائی اور دفاعی ٹیکنالوجی کے سفر کو آسانی سے روک نہیں سکتے۔ پرچم کا سبز رنگ مقامی صلاحیت اور خود انحصاری کی علامت بن چکا ہے، جبکہ سفید رنگ ایک ایسے تکنیکی اور باہمی تعاون پر یقین رکھنے والے پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے جو شراکت داری کے لیے تیار، مگر اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے عزم میں غیر متزلزل ہے۔
پاک فضائیہ کی عملی پختگی آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں بھی نمایاں ہوئی، جب دشمن کی اشتعال انگیزی کا جواب متوازن، درست اور مؤثر فضائی کارروائی کے ذریعے دیا گیا۔ اس کارروائی نے بغیر غیر ضروری کشیدگی پیدا کیے بازداریت بحال کی اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی فضائی قوت دشمن کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنے، جنگی بیانیے کو تشکیل دینے اور اشتعال انگیزی کے باوجود پیشہ ورانہ ضبط برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مئی 2025ء میں یہ صلاحیت ایک اور کڑے امتحان سے گزری، جب عددی برتری رکھنے والے حریف نے معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے عسکری مہم کا آغاز کیا۔ رافیل اور ایس-400 جیسے جدید نظاموں پر اعتماد کے باوجود مخالف قوت کو ایک ایسی فضائی قوت کا سامنا کرنا پڑا جو مکمل طور پر مربوط کِل چین کے ذریعے کارروائی کر رہی تھی۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے اس معرکے کو اکیسویں صدی کی طویل ترین اور شدید ترین بصری حد سے ماورا فضائی جھڑپوں میں شمار کیا۔ جے-10 سی اور جے ایف-17 بلاک تھری طیاروں نے اے ای ڈبلیو اینڈ سی پلیٹ فارمز، زمینی اور خلائی سینسرز کے ساتھ مربوط ہو کر میدانِ جنگ میں مؤثر برتری قائم کی۔
ان کارروائیوں کے نتیجے میں بھارت کے چار رافیل، ایک مگ-29، ایک میراج 2000، ایک ایس یو-30 ایم کے آئی اور ایک قیمتی ڈرون مار گرائے گئے، جبکہ پاک فضائیہ کو اپنے طیاروں کا کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔ اسی دوران بھارتی ایس-400 نظام کے اہم اجزا، خصوصاً فائر کنٹرول ریڈارز، کو غیر مؤثر بنانا اس امر کی علامت تھا کہ جدید ترین فضائی دفاعی نظام بھی ایک مربوط اور مقامی جنگی آرکیٹیکچر کے سامنے کمزور ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس معرکے کی اصل اہمیت محض تباہ کیے گئے اہداف کی تعداد میں نہیں بلکہ کثیرالمجال جنگی صلاحیت کے کامیاب استعمال میں پنہاں تھی۔ زمینی، فضائی، خلائی، سائبر اور برقی مقناطیسی میدانوں میں حرکی اور غیر حرکی اثرات کو یکجا کرتے ہوئے ڈرونز، الیکٹرانک وارفیئر، مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی، نیٹ ورک مرکز کمانڈ اینڈ کنٹرول اور درست نشانے کی صلاحیتوں کو مربوط کیا گیا۔ یوں فیصلہ سازی کے ’’او او ڈی اے لوپ‘‘ کو مختصر کر کے فیصلہ کن برتری حاصل کی گئی۔ محفوظ اور مقامی کمانڈ اینڈ کنٹرول نظاموں نے حقیقی وقت میں معلومات کے امتزاج اور مرکزی سطح پر کارروائی کو ممکن بنایا، جس سے طاقت کا استعمال منظم، قانونی اور درست رہا۔
شاید سب سے نمایاں پہلو پاک فضائیہ کا اخلاقی طرزِ عمل تھا۔ گہرے اور وسیع تر نقصانات پہنچانے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود قیادت نے متوازن ردِعمل کو ترجیح دی؛ بازداریت بحال کی، ملکی خودمختاری کا تحفظ کیا اور پھر کشیدگی میں کمی کے لیے گنجائش پیدا کی۔ جارحانہ عملی صلاحیت اور تزویراتی ضبط کا یہ امتزاج ایک پیشہ ور عسکری قوت کی پہچان اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کے ذمہ دار و مستحکم کردار کی بنیاد ہے۔
ہر یومِ آزادی پر جب اگست کے آسمان تلے سبز و سفید ہلالی پرچم بلند ہوتا ہے تو وہ ایسے پاکستان پر سایہ فگن ہوتا ہے جو آزمائشوں سے دوچار ضرور ہے، مگر اپنے محافظوں کی صلاحیت پر پہلے سے کہیں زیادہ پُراعتماد ہے۔ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے خود کو ایک ایسی تکنیکی طور پر متحرک، نظریاتی طور پر پختہ اور اخلاقی اقدار سے جڑی ہوئی قوت میں ڈھال لیا ہے جس نے خطے میں فضائی طاقت کے مفہوم کو نئی جہت دی ہے۔
قائداعظم کا ’’کسی سے کم تر نہ ہونے‘‘ کا خواب اب محض ایک دور کی تمنا نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے؛ جو مقامی ٹیکنالوجی، متنوع جنگی طیاروں اور ڈرونز، مربوط کِل چین، مختصر او او ڈی اے لوپس اور زمین، فضا، خلا، سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر میدان میں فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت میں جلوہ گر ہے۔ آج جب قوم اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں کی تجدیدِ عہد کر رہی ہے، پاک فضائیہ اس عزم کی مضبوط ترین علامت بن کر کھڑی ہے—ایسی قوت جو پاکستان کی ایک ایک انچ خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر دم تیار ہے، جو جدت اور تبدیلی کے سفر کو جاری رکھے گی اور جو جذبے، عزم اور صلاحیت، ہر اعتبار سے کسی سے کم تر نہیں رہے گی۔ انشاء اللہ

