محکمہ موسمیات نے یکم سے 6 جولائی کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مون سون کی پہلی بارشوں کی باقاعدہ پیشگوئی کی ہے۔ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مرطوب ہوائیں یکم جولائی کی رات سے ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی، جبکہ ایک مغربی لہر بھی ان ہواؤں کے ساتھ شامل ہو کر موسمی نظام کو مزید شدت دے گی۔ اس کے نتیجے میں شدید گرمی اور حبس کی لہر کا خاتمہ ہوگا اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
بارشوں کے اس نئے سلسلے کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں موسلا دھار بارشیں ہوں گی۔ دوسری جانب، بلوچستان کے شمالی اور شمال مشرقی اضلاع میں یکم سے 4 جولائی تک بادل برسیں گے، جبکہ سندھ کے بالائی اضلاع بشمول سکھر اور لاڑکانہ میں 3 اور 4 جولائی کو آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ صوبائی دارالحکومت کراچی میں 13 جولائی تک باقاعدہ مون سون بارش کا کوئی امکان نہیں ہے، تاہم مطلع جزوی ابرآلود رہنے اور ہلکی بونداباندی کی توقع ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور دیگر متعلقہ اداروں نے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ موسلا دھار بارشوں کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، لاہور اور فیصل آباد کے نشیبی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا شدید خطرہ ہے۔ مزید برآں، بالائی خیبرپختونخوا، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے سیاحوں اور مقامی آبادی کو شدید محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے
