شہدا پولیس کے ورثا کا دوٹوک مقف، انصاف، دہشت گردی کے خاتمے اور متاثرہ خاندانوں کے مکمل تحفظ تک احتجاج جاری رہے گا
لیویز فورس کی بحالی، سکیورٹی بجٹ دگنا، شہدا کے معاوضے میں اضافہ، ملازمت اور مفت تعلیم کا مطالبہ
کوئٹہ(الفجر آن لائن)زیارت کے علاقے مانگی میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے ورثا کی جانب سے جاری احتجاجی دھرنے کے دوران دھرنا کمیٹی نے حکومتی وفد کے سامنے اپنے آٹھ نکاتی مطالبات پیش کر دیے ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ مطالبات پر عملی پیش رفت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور تحریری یقین دہانی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
دھرنا کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق 6 جولائی 2026 کو ضلع زیارت کی پولیس کے 42 اہلکاروں کو کچھ، ضلع زیارت اور سران کے درمیان واقع ایک حساس اور غیر آباد مقام پر تعینات کیا گیا، جہاں محدود وسائل اور ناکافی اسلحے کے ساتھ موجود اہلکاروں پر دہشت گردوں نے چاروں اطراف سے حملہ کیا۔
کمیٹی کا دعوی ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ایک ایک میگزین کے ساتھ آخری دم تک مزاحمت کی اور متعدد مرتبہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، سی ٹی ڈی اور ایف سی سے کمک طلب کی، تاہم بروقت مدد نہ پہنچنے کے باعث 30 اہلکار شہید ہو گئے۔دھرنا کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج یا آزاد جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرائی جائیں اور غفلت یا کوتاہی کے مرتکب تمام افسران اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے
۔کمیٹی نے اپنے دیگر مطالبات میں ضلع زیارت اور ملحقہ علاقوں کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک کرنے، بلوچستان لیویز فورس کی مکمل بحالی، لیویز کو جدید اسلحہ، گاڑیاں، مواصلاتی نظام، تربیت اور اختیارات فراہم کرنے، ایف سی کو علاقے سے واپس بلانے اور لیویز فورس کا سکیورٹی بجٹ دگنا کرنے کا مطالبہ بھی شامل کیا ہے۔
شہدا کے اہل خانہ سے متعلق مطالبات میں پہلے سے اعلان کردہ مالی معاوضے کو دگنا کرنے، شہدا کے بچوں کو فوری سرکاری ملازمتیں دینے اور انہیں ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں مکمل مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔دھرنا کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ مطالبات صرف شہدا کے خاندانوں کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی، پولیس اور لیویز فورس کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہیں۔دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق دھرنا کمیٹی سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے

