لاکھ 6 میٹرک ٹن سرپلس چینی برآمد کی اجازت دی جائے: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشنسالانہ کھپت 6.76 ملین میٹرک ٹن ہو گی جسے نکال کر 1.181 ملین میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے: ترجمان
لاہور (الفجرآن لائن) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہیجس میں حکومت کی جانب سے گذشتہ کرشنگ سیزن کے اختتام کے ایک ماہ کے اندر سرپلس چینی کو برآمد کرنے کے وعدیپر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق حالیہ کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں 7.967ملین میٹرک ٹن چینی کے ذخائر موجود تھے جبکہ ملک میں چینی کی سالانہ کھپت 6.76 ملین میٹرک ٹن ہو گی جسے نکال کر 1.181 ملین میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
اتنی مقدار میں چینی کو برآمد کرنے کیلئے پانچ ماہ کا عرصہ درکار ہے اور تب تک نئی چینی مارکیٹ میں آنا شروع ہو جائے گی۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر اور بروقت ادائیگیوں نے انہیں گنے کی بہتر اقسام کی کاشت اور ضروری مداخل کی خریداری کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں فی ایکڑ پیداوار اور گنے میں چینی کی ریکوری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اگلے کرشنگ سیزن میں گنے کی اچھی فصل ہونے کی توقع ہے جس کے نتیجے میں چینی زیادہ بنائی جائے گی۔
آئندہ کرشنگ سیزن میں 8 ملین میٹرک ٹن چینی کی پیداوار متوقع ہے۔ فی الوقت شوگر انڈسٹری کو چینی کے بڑے ذخائر رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
جبکہ اس کی طلب بہت کم ہے۔چینی کی موجودہ قیمتیں اْس کی پیداواری لاگت سے انتہائی کم ہیں جبکہ گنے کی قیمت ہر سال بڑھ رہی ہے۔
چینی کے فروخت نہ ہونے والے اسٹاکس کی بدولت شوگر انڈسٹری کو بینکوں کے قرضوں اور کاشتکاروں کے بقایا جات کی ادائیگیوں میں فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
ان تمام عوامل کے پیشِ نظر حکومت سے پْرزور درخواست کی جاتی ہے کہ جلد از جلد 6 لاکھ میٹرک ٹن سرپلس چینی برآمد کی اجازت دی جائے اور27-2026 کے کرشنگ سیزن کے آغاز کے ایک ماہ کے اندر، 5 لاکھ 50 ہزار ٹن کی باقی مقدار برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔
اس سلسلے میں جلد فیصلہ نہ صرف شوگر انڈسٹری کو فنڈز کی قلت سے نمٹنے میں مدد دے گا بلکہ قومی خزانے کیلئے تقریباً 575 ملین امریکی ڈالر کا انتہائی ضروری زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

