ممبئی (الفجر آن لائن ) بھارت کی خلائی ایجنسی اسرو کے سو سے زائد تجربہ کار سائنس دانوں کے اچانک استعفوں نے پریشانی کی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔
جس کے بعد حکومت کو مجبوراً، استعفے منظور کرنے کے قوانین کو سخت کرنا پڑا ہے،اس اچانک فیصلے اور سائنس دانوں کے جانے کی سب سے بڑی وجہ نجی شعبے یعنی پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے ملنے والی پرکشش مراعات اور کام کا شدید دباؤ ہے۔
حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں کئی پرائیویٹ کمپنیاں اور نئے اسٹارٹ اپس سامنے آئے ہیں جو ان تجربہ کار سائنس دانوں کو سرکاری ملازمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہیں، بہتر عہدے اور جدید سہولیات پیش کر رہے ہیں۔
دوسری بڑی وجہ گگن یان اور چندریان جیسے بڑے اور حساس ملکی مشنز کا شدید دباؤ ہے، جہاں دن رات کام کرنے کی وجہ سے بہت سے سائنس دان ذہنی سکون اور ذاتی زندگی کو وقت دینے کے لیے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اس صورتِ حال کے پیش نظر بھارتی محکمہ خلائی امور نے اب استعفوں کے قواعد کو اتنا سخت کر دیا ہے کہ کوئی بھی سائنس دان اب آسانی سے نوکری نہیں چھوڑ سکے گا۔
نئے قانون کے تحت اب اسرو کے مقامی سینٹرز کے ڈائریکٹرز براہ راست کسی سائنس دان کا استعفیٰ قبول نہیں کر پائیں گے، بلکہ ہر درخواست حتمی منظوری کے لیے براہ راست حکومت کے مرکزی محکمے کو بھیجی جائے گی تاکہ اہم ترین منصوبے ادھورے نہ رہ جائیں۔
دوسری جانب اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے اس صورتِ حال کو زیادہ تشویشناک قرار نہیں دیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کا آنا جانا ہر ادارے کا حصہ ہوتا ہے اور وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

