اسلام آباد(الفجرآن لائن) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صوبہ سیستان کے گورنر منصور بجار نے ملاقات کی، جس میں پاک۔ایران تعلقات، دوطرفہ تجارت، بارڈر مینجمنٹ، سرمایہ کاری، بارڈر مارکیٹس، علاقائی امن، سیکیورٹی تعاون اور معاشی روابط کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے آغاز میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت پر گورنر سیستان منصور بجار سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان کے عوام اس دکھ کی گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اس موقع پر گورنر سیستان منصور بجار نے بلوچستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، بالخصوص بلوچستان کے عوام کی محبت اور تعاون پر ہم شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینا ہے گورنر سیستان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ تجارتی حجم تقریباً تین ارب ڈالر ہے، تاہم مشترکہ کوششوں سے اسے بڑھا کر دس ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی تعلقات اور تجارت کے فروغ سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ سیکیورٹی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان بارڈر پر بارٹر ٹریڈ کو فروغ دینے اور تجارتی حجم کو دس ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ گورنر سیستان کی اس رائے سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ امن، استحکام اور بہتر سیکیورٹی ماحول کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایران کے ساتھ سرحد پر قائم ابتدائی تین بارڈر مارکیٹس کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ مستقبل میں مزید بارڈر مارکیٹس کے قیام پر بھی کام کیا جائے گا تاکہ سرحدی علاقوں کے عوام کو روزگار اور تجارت کے بہتر مواقع میسر آسکیں انہوں نے کہا کہ چاغی سے سکھر تک ریلوے ٹریک کی بہتری کا منصوبہ دونوں برادر ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس سے سامان کی ترسیل میں سہولت، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ ملے گا وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ حکومت ویسٹرن کوریڈور کے تحفظ اور مؤثر نگرانی کے لیے ایک علیحدہ سیکیورٹی ڈویژن قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف منرل کوریڈور کو محفوظ اور فعال بنانے میں مدد ملے گی بلکہ ایران کے ساتھ تجارت کو بھی نئی تقویت ملے گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مزید مستحکم ہوں گے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پائیدار امن ہی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اس عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا کہ اپنی سرزمین پر موجود نان اسٹیٹ ایکٹرز کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں تاکہ سرحد کے دونوں جانب آباد بلوچ عوام امن، استحکام اور ترقی کے ثمرات سے بھرپور استفادہ کر سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان لائیو اسٹاک کی تجارت کے فروغ کے لیے جدید سلاٹر ہاؤسز اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات قائم کر رہی ہے اور اس شعبے میں ایرانی وفد کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیرمقدم کرتی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تجویز دی کہ بلوچستان اور سیستان کی صوبائی حکومتیں مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیں تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، سرحدی تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زراعت، لائیو اسٹاک اور عوامی روابط سے متعلق معاملات پر مستقل بنیادوں پر پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، سرحدی تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو فروغ دیا جائے گا اور امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے باہمی تعاون مزید وسعت اختیار کرے گا۔

