رکن کمیٹی کا بائیکاٹپیمرا پالیسی، پی ٹی وی اور میڈیا کوریج پر اجلاس میں گرما گرم بحث، وزیر اطلاعات اور ارکان آمنے سامنے
اسلام آباد (الفجر آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر پولین بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، کمیٹی اراکین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی سینیٹر سحر کامران نے پاکستان ٹیلی ویڑن (پی ٹی وی) اور مختلف منصوبوں سے متعلق سوالات اٹھائے۔
جس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور سحر کامران کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اجلاس کے ایجنڈے میں پیمرا سے متعلق معاملات شامل تھے، تاہم پی ٹی وی کے معاملات پر غیر ضروری توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا،”یہاں پی ٹی وی فوبیا ہے، میں اس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کو اس انداز میں "ہائی جیک” نہیں کیا جا سکتا۔
اور اگر گزشتہ اجلاس کے معاملات پر بات کرنا مقصود تھا تو پہلے سے آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔
اس موقع پر کمیٹی رکن سید امین الحق نے وزیر اطلاعات کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا۔
بعد ازاں سحر کامران نے وزیر اطلاعات کے رویے پر احتجاج کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور کہا، "آپ اس طرح اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں پیمرا کی پالیسی اور میڈیا کوریج سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے سوال اٹھایا کہ پیمرا وزارت اطلاعات کو پالیسی دیتا ہے یا وزارت اطلاعات پیمرا کو پالیسی ہدایات جاری کرتی ہے۔
انہوں نے یہ اعتراض بھی کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی تقاریر سنسر ہونے سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور پارلیمنٹ و عوامی جلسوں کی تقاریر کو مناسب کوریج نہیں ملتی۔
اس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزارت اطلاعات کو پالیسی ڈائریکشن دینے کا اختیار حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پر اپوزیشن رہنماؤں کو بھی مساوی موقع دیا جاتا ہے۔
جبکہ نجی ٹی وی چینلز اپنی ادارتی پالیسی کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات نجی چینلز ان کی اپنی تقاریر بھی مکمل نشر نہیں کرتے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے پارلیمنٹ اور عوامی جلسوں کی تقاریر نشر نہ ہونے پر دوبارہ اعتراض اٹھایا۔
جس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ پارلیمنٹ سے متعلق معاملات متعلقہ فورم پر اٹھائے جا سکتے ہیں۔
اجلاس میں پیمرا کی پالیسی، نشریاتی معاملات اور میڈیا کوریج سے متعلق امور پر مزید غور جاری رہا۔

