ادائیگیوں کے باوجود زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا،گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد
دسمبر دو ہزار چھبیس تک زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر بیس ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے‘پریس کانفرنس
کراچی (الفجرآن لائن) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پیر کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود (پالیسی ریٹ) 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس فیصلے کا اعلان اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ادائیگیوں کے باوجود زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔
دسمبر دو ہزار چھبیس تک زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر بیس ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ آئندہ ایک سے دوماہ میں مہنگائی میں مزید کمی آئے گی۔ مالی سال کے اختتام تک مہنگائی سات فیصد رہ جائے گی رواں سال برآمدات میں بھی مزید بہتری کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسظی کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا ۔ اس فیصلے سے قبل معاشی تجزیہ کاروں کی اکثریت بھی یہی توقع ظاہر کر رہی تھی کہ مرکزی بینک شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا،
کیونکہ سست معاشی نمو کے دوران میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔مختلف بروکریج ہاؤسز کی جانب سے کیے گئے سرویز کے مطابق 90 فیصد سے زائد ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کا خیال تھا کہ اسٹیٹ بینک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا، جبکہ صرف محدود تعداد نے معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا

