کوئٹہ( نیوز ایجنسیاں) ضلع خاران میں پیش آنے والے مبینہ مسلح حملے کے بعد بلوچستان بھر میں سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی)اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے ہنگامی الرٹ میں تمام اضلاع کے پولیس افسران اور اہلکاروں کو فوری طور پر اپنی اپنی جائے تعیناتی پر پہنچنے۔
حساس تنصیبات کی حفاظت مزید سخت کرنے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سیکیورٹی اقدامات غیر معمولی حد تک بڑھا دیے گئے ہیں۔
شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے جبکہ اہم شاہراہوں، حساس مقامات اور سرکاری عمارتوں کے اطراف پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی
ہے دوران سفر شناختی دستاویزات اپنے پاس رکھیں، سیکیورٹی چیکنگ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک شخص، گاڑی یا سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس۔
ایف سی یا متعلقہ اداروں کو دیں حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی اقدامات عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے گئے ہیں۔
شہریوں سے افواہوں پر کان نہ دھرنے، غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
جبکہ کوئٹا شہر کے داخلی و خارجی راستہ سمیت کوئٹہ شہر کے مختلف بازار کی شراہوں پر ایک سی کی باری نفری تعینات ہے جبکہ پولیس اہلکار اور ایف سی میں ناکے لگا کے اسنیپ چیکنگ شروع کر دی ہے۔

