اسلام آباد(الفجرآن لائن)قومی اسمبلی کی توانائی کمیٹی کو وفاقی وزیر اویس لغاری نے بتایا ہے کہ ڈسکوز کے اہلکار وں کی کرپشن کی وجہ سے فیڈر اوور لوڈ ہو جاتے ہیں۔
بدھ کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس کنونئیر محمد ادریس کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی نے اپنے ہی محکمے کی کارکردگی کا پول کھولتے ہوئے کہا کہ ڈیمانڈ نوٹس میں ملی بھگت سے لوڈ کم لکھنے کی وجہ سے سسٹم پر بڑا بوجھ پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کا عملہ رشوت لے کر اور مرغیاں کھا کر کم لوڈ لکھوا کر سسٹم کی ستیاناس کر رہا ہے۔ ملک کے اکثر لوڈ شیڈنگ والے فیڈرز کی وجہ ڈسکوز اور ان کا عملہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسکوز کا سسٹم اوور لوڈ ہو چکا ہے۔ سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے ہر فیڈر میں 60 کروڑ سے ایک ارب روپے تک سرمایہ کاری درکار ہے۔
انہوں نے انفراسٹرکچر کے مسائل حل کرنے کے لیے ڈسکوز کو جامع سرمایہ کاری کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم پر سرمایہ کاری کے لیے 200 ارب روپے درکار ہوں گے جو صارفین سے 25 برس میں ریکور ہوں گے۔
اس رقم کا صارفین پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا مگر سسٹم اپ گریڈ ہو جائے گا۔وزیر توانائی نے کہا کہ ڈسکوز نے آج تک سسٹم پر سرمایہ کاری نہیں کی۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈسکوز کی بہتری کے لیے پلان ترتیب دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں 14 ہزار فیڈرز ہیں جن میں سے ساڑھے تین ہزار فیڈرز پر چوری کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ ڈسکوز کو لوڈ شیڈنگ کی جتنی اجازت ہے اس سے کئی گنا زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی ہدایت کی گئی ہے۔
اب فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمر سے بجلی بند کی جائے گی تاکہ پورے فیڈر کے بجائے صرف اسی ٹرانسفارمر پر لوڈ شیڈنگ ہو۔ اجلاس کے دوران رکن کمیٹی رانا محمد حیات اپنی ہی حکومت پر برس پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی لوڈ شیڈنگ ہے کہ عوام میں جانا مشکل ہو گیا ہے۔
اگر جمہوری حکومت ہے تو دوبارہ عوام کے پاس کیسے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بل اتنے آ رہے ہیں کہ عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے، لوگ کہاں جائیں گے۔ آپ سے درخواست ہے یہ صارفین پاکستانی ہیں، ہم نے پھر ووٹ کے لیے جانا ہے۔
رانا محمد حیات نے کہا کہ ڈسکوز کیا کریں، وزیر صاحب آپ پیچھے سے بتی بند کر دیتے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم ملک کے لیے نہیں صرف آئی ایم ایف کے لیے کام کر رہے ہیں۔
زمینداروں کا بل اتنا آ رہا ہے کہ کیا پیداوار ہو گی اور کیا ایکسپورٹ ہوں گی۔ جب کسان کو اٹھنے ہی نہیں دیا جا رہا تو جی ڈی پی کیسے بڑھے گا۔

