کوئٹہ (الفجر آن لائن) انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے تاجروں کے خلاف مبینہ کارروائیوں، قومی شاہراہوں پر امن و امان کی ابتر صورتحال۔
دہشت گردی کے واقعات اور تاجروں کے مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف 7 اور 8 اگست کو کوئٹہ بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان
کر دیا ہے‘یہ بات انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) کے صدر رحیم آغا جنرل سیکرٹری ولی افغان، حاجی اسلم ترین، حاجی ظہور کاکڑ، حاجی فاروق شاہوانی، حاجی داؤد خلجی، حاجی عبدالنافی نورزئی، راجہ محمد ایوب گجر، ولی محمد ترین، اسد خان، اکمل خان، مطیع اللہ، بخت کاکڑ، عبدالحکیم الکوزئی، بشیر خان سنجرانی، زبیر احمد لہڑی اور دیگر عہدیداروں نے مشترکہ بیان میں کہی۔
رہنماؤں نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے آئے روز تاجروں کی بلاجواز تذلیل، دکانوں کا سامان سڑکوں پر پھینکنے، حلیم پلازہ کے متاثرہ تاجروں کو تاحال معاوضہ ادا نہ کرنے اور دہشت گردی کے مختلف واقعات میں متاثر ہونے والے تاجروں کو نقصانات کا ازالہ نہ کیے جانے کے باعث تاجر برادری شدید اضطراب کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی تا کوئٹہ اور تفتان تا کوئٹہ قومی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کی لوٹ مار، بسوں، ٹرکوں اور گیس بردار گاڑیوں پر حملے، گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور بے گناہ مسافروں کے قتل و زخمی ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ تاجروں اور شہریوں میں بھی شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جناح کلاتھ مارکیٹ، عسکری مارکیٹ اور دیگر مارکیٹوں کے کرایہ دار دکانداروں کو بے دخل کرنے کی کوششیں، عدالتی فیصلوں کے باوجود تاجروں کو مسلسل ہراساں کرنا اور طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے۔
انجمن تاجران نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا مستقل اور منصفانہ حل نکالیں۔تاجر رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کمشنر کوئٹہ ڈویڑن کا رویہ تاجروں کے ساتھ غیر مناسب اور ظالمانہ ہے۔
جس کے باعث تاجروں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک میں مزید شدت لائی جا سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
بیان میں حکومت بلوچستان، چیف سیکرٹری، کمشنر کوئٹہ ڈویڑن، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ تاجروں کے جائز مطالبات پر فوری مذاکرات کیے جائیں اور عدالتی فیصلوں، قانونی دستاویزات اور حقائق کی روشنی میں تمام مسائل کا مستقل حل نکالا جائے

